شہِ انبیا صد صلوٰۃ و سلامی
شہِ انبیا صد صلوٰۃ و سلامی
بہ روحِ تو بادا چہ عالی مقامی
وظیفہ نہ کیوں ہو ترا نامِ نامی
سراپا محبت ہے ذاتِ گرامی
حکومت سے بہتر ہے تیری غلامی
شہِ انبیا صد صلوٰۃ و سلامی
بہ روحِ تو بادا چہ عالی مقامی
رخِ پاک سے اپنے پردہ ہٹا دے
دکھا دے جمالِ مبارک دکھا دے
سراپا نظر آج مجھ کو بنا دے
شہِ انبیا صد صلوٰۃ سلامی
بہ روحِ تو بادا چہ عالی مقامی
رہے گی یہ کب تک مری خستہ حالی
غریبوں کے یاور یتیموں کے والی
ترے در سے اب میں نہ جاؤں گا خالی
شہِ انبیا صد صلوٰۃ و سلامی
بہ روح تو بادا چہ عالی مقامی
خدا کی خدائی کے او راج والے
ہیں محتاج تیرے ہی سب تاج والے
مری لاج بھی رکھ لے معراج والے
شہِ انبیا صد صلوٰۃ و سلامی
بہ روحِ تو بادا چہ عالی مقامی
دعاؤں میں یوسفؔ کی مولیٰ اثر دے
مرادوں کے پھولوں سے دامن کو بھر دے
اشارہ کرم کا کوئی آج کر دے
شہِ انبیا صد صلوٰۃ و سلامی
بہ روحِ تو بادا چہ عالی مقامی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.