Font by Mehr Nastaliq Web

مجھ پر بھی ہو کچھ لطف و عنایاتِ محمد

یوسف اجمیری

مجھ پر بھی ہو کچھ لطف و عنایاتِ محمد

یوسف اجمیری

MORE BYیوسف اجمیری

    مجھ پر بھی ہو کچھ لطف و عنایاتِ محمد

    اٹھ جائیں نگاہوں سے حجاباتِ محمد

    دیکھوں ترے جلوؤں کو میں دن رات محمد

    آیا ہوں ترے در پہ تیرے در کا پجاری

    مجھ پر بھی نظر مہر کی میں بھی ہوں بھکاری

    للہ ملے مجھ کو بھی خیراتِ محمد

    کونین کا مقصد ہے دوعالم کی بنا ہے

    سب کچھ ہے ترے ہاتھ میں تو دستِ خدا ہے

    تو چاہے تو بن جائے مری بات محمد

    رضواں ہوا قرباں تو حوریں ہوئیں صدقے

    اک دھوم فرشتوں میں تھی جب عرش پہ پہنچے

    اللہ سے کرنے کو ملاقات محمد

    ڈھونڈا ہے سرِ عرش بھی جا جا کے گماں نے

    کی اپنی سی پرواز بہت اہلِ جہاں نے

    سمجھا نہ کوئی تیرے مقامات محمد

    کونین کا آئینہ ترا قلبِ مصفا

    ظاہر ترے انداز سے خوشنودیٔ مولیٰ

    باتیں تری قرآن کی آیاتِ محمد

    یوسفؔ رہوں آزاد میں کونین کے غم سے

    کچھ دور نہیں یہ مرے مولیٰ کے کرم سے

    جاری رہے لب پہ مرے دن رات محمد

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے