مجھ پر بھی ہو کچھ لطف و عنایاتِ محمد
مجھ پر بھی ہو کچھ لطف و عنایاتِ محمد
اٹھ جائیں نگاہوں سے حجاباتِ محمد
دیکھوں ترے جلوؤں کو میں دن رات محمد
آیا ہوں ترے در پہ تیرے در کا پجاری
مجھ پر بھی نظر مہر کی میں بھی ہوں بھکاری
للہ ملے مجھ کو بھی خیراتِ محمد
کونین کا مقصد ہے دوعالم کی بنا ہے
سب کچھ ہے ترے ہاتھ میں تو دستِ خدا ہے
تو چاہے تو بن جائے مری بات محمد
رضواں ہوا قرباں تو حوریں ہوئیں صدقے
اک دھوم فرشتوں میں تھی جب عرش پہ پہنچے
اللہ سے کرنے کو ملاقات محمد
ڈھونڈا ہے سرِ عرش بھی جا جا کے گماں نے
کی اپنی سی پرواز بہت اہلِ جہاں نے
سمجھا نہ کوئی تیرے مقامات محمد
کونین کا آئینہ ترا قلبِ مصفا
ظاہر ترے انداز سے خوشنودیٔ مولیٰ
باتیں تری قرآن کی آیاتِ محمد
یوسفؔ رہوں آزاد میں کونین کے غم سے
کچھ دور نہیں یہ مرے مولیٰ کے کرم سے
جاری رہے لب پہ مرے دن رات محمد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.