Font by Mehr Nastaliq Web

وہ جو امت کے ہیں غم خوار مدینے والے

یوسف اجمیری

وہ جو امت کے ہیں غم خوار مدینے والے

یوسف اجمیری

MORE BYیوسف اجمیری

    وہ جو امت کے ہیں غم خوار مدینے والے

    وہ جو ہیں قافلہ سالار مدینے والے

    وہی ہیں احمد مختار مدینے والے

    مژدۂ دید ملے لطف کا پیغام ملے

    تشنۂ لب ہوں مئے کوثر کا کوئی جام ملے

    مجھ کو بھی سیدِ ابرار مدینے والے

    میرے سر میں بخدا دوسرا سودا ہی نہیں

    اور کچھ اس کے سوا دل میں تمنا ہی نہیں

    تجھ سے ہوں تیرا طلب گار مدینے والے

    جلوۂ حسن سے پُرنور مرا دل کر دے

    دور دل سے مرے ہنگامۂ باطل کردے

    میرے مولیٰ مرے سرکار مدینے والے

    اک اشارے پہ ترے نظم زمانہ بدلے

    جس کا چاہے اسے کونین کی دولت بخشے

    تو ہے ہر بات کا مختار مدینے والے

    کچھ زمیں پر نہیں الطاف کا دریا جاری

    آسماں پر بھی حکومت کا ہے سکہ جاری

    تو ہے کونین کا سردار مدینے والے

    تجھ پہ صدقے ترے اکرام پہ یوسفؔ قرباں

    تیری محفل ہے ترا ذکر ہے جب تو ہے یہاں

    کیوں نہ ہو بارشِ انوار مدینے والے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے