وہ جو امت کے ہیں غم خوار مدینے والے
وہ جو امت کے ہیں غم خوار مدینے والے
وہ جو ہیں قافلہ سالار مدینے والے
وہی ہیں احمد مختار مدینے والے
مژدۂ دید ملے لطف کا پیغام ملے
تشنۂ لب ہوں مئے کوثر کا کوئی جام ملے
مجھ کو بھی سیدِ ابرار مدینے والے
میرے سر میں بخدا دوسرا سودا ہی نہیں
اور کچھ اس کے سوا دل میں تمنا ہی نہیں
تجھ سے ہوں تیرا طلب گار مدینے والے
جلوۂ حسن سے پُرنور مرا دل کر دے
دور دل سے مرے ہنگامۂ باطل کردے
میرے مولیٰ مرے سرکار مدینے والے
اک اشارے پہ ترے نظم زمانہ بدلے
جس کا چاہے اسے کونین کی دولت بخشے
تو ہے ہر بات کا مختار مدینے والے
کچھ زمیں پر نہیں الطاف کا دریا جاری
آسماں پر بھی حکومت کا ہے سکہ جاری
تو ہے کونین کا سردار مدینے والے
تجھ پہ صدقے ترے اکرام پہ یوسفؔ قرباں
تیری محفل ہے ترا ذکر ہے جب تو ہے یہاں
کیوں نہ ہو بارشِ انوار مدینے والے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.