Font by Mehr Nastaliq Web

زہے مقدر حضورِ حق سے سلام آیا پیام آیا

یوسف قدیری

زہے مقدر حضورِ حق سے سلام آیا پیام آیا

یوسف قدیری

MORE BYیوسف قدیری

    زہے مقدر حضورِ حق سے سلام آیا پیام آیا

    جھکاؤ نظریں بچھاؤ پلکیں ادب کا اعلیٰ مقام آیا

    یہ کون سر سے کفن لپٹے، چلا ہے الفت کے راستے پر

    فرشتے حیرت سے تک رہے ہیں، یہ کون ذی احترام آیا

    فضا میں لبیک کی صدائیں، ز فرش تا عرش گونجتی ہیں

    ہر ایک قربان ہو رہا ہے، زباں پہ یہ کس کا نام آیا

    یہ راہ حق ہے، سنبھل کر چلنا، یہاں ہے منزج قدم قدم

    پہنچنا در پر تو کہنا آقا سلام لیجے غلام آیا

    دعا جو نکلی تھی دل سے آخر پلٹ کے مقبول ہو کے آئی

    وہ جذبہ جس میں تڑپ تھی سچی وہ جذبہ آخر کو کام آیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے