زہے مقدر حضورِ حق سے سلام آیا پیام آیا
زہے مقدر حضورِ حق سے سلام آیا پیام آیا
جھکاؤ نظریں بچھاؤ پلکیں ادب کا اعلیٰ مقام آیا
یہ کون سر سے کفن لپٹے، چلا ہے الفت کے راستے پر
فرشتے حیرت سے تک رہے ہیں، یہ کون ذی احترام آیا
فضا میں لبیک کی صدائیں، ز فرش تا عرش گونجتی ہیں
ہر ایک قربان ہو رہا ہے، زباں پہ یہ کس کا نام آیا
یہ راہ حق ہے، سنبھل کر چلنا، یہاں ہے منزج قدم قدم
پہنچنا در پر تو کہنا آقا سلام لیجے غلام آیا
دعا جو نکلی تھی دل سے آخر پلٹ کے مقبول ہو کے آئی
وہ جذبہ جس میں تڑپ تھی سچی وہ جذبہ آخر کو کام آیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.