ہے تلخئ حالات سیہ رات بہت ہے
ہے تلخئ حالات سیہ رات بہت ہے
ہو جائے اگر چشمِ عنایات بہت ہے
جاں بخش ہے یہ قول کسی اہلِ نظر کا
ہوں ان کی نگاہوں میں یہی بات بہت ہے
بردے کو ملے بارِ دگر اذنِ حضوری
بے مایہ کی آقا یہ مدارات بہت ہے
پھر شام و فلسطین میں اے رحمتِ عالم
امت تیری در رنج و بلیات بہت ہے
آنسو نہیں موتی ہیں یہ چشمانِ طلب میں
یہ گنجِ گراں مایہ کی سوغات بہت ہے
صد شکر کہ منگتا نہیں شاہانِ زمن کا
دامن میں تیری آل کی خیرات بہت ہے
لفظوں میں سکت ہے نہ معانی میں قرینہ
ہوں وقفِ ثنا پھر بھی یہ اوقات بہت ہے
اے حاصلِ گفتار مری وجہِ تکلم
ہر آن تر و تازہ تری بات بہت ہے
اے روحِ تکلم اے مری جانِ قصیدہ
سو باتوں کی اک بات تری بات بہت ہے
کچھ کام نہیں شعر و سخن دادِ ہنر سے
مقصودِ ظفرؔ آپ کی بس نعت بہت ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.