جادۂ ہستی کا ہے دستور سیرت آپ کی
جادۂ ہستی کا ہے دستور سیرت آپ کی
ہادیٔ عالم ہدیٰ کا نور سیرت آپ کی
مصحفِ لا ریب ہے پُر نور صورت آپ کی
مظہرِ قرآں ہوئی مذکور سیرت آپ کی
اب قیامت تک نہ آئے گا نیا ہادی کوئی
ہے ابد تک ایک ہی دستور سیرت آپ کی
دشمنانِ جاں کی خاطر بھی دعا جاں بخشیاں
رافت و رحمت سے ہے معمور سیرت آپ کی
فکرِ انسانی کو بھی تابانیاں دیں آپ نے
حکمت و عرفاں کا ہے منشور سیرت آپ کی
ڈوبتی نبضیں ہوئیں انسانیت کی پھر رواں
جیسے ہی گونجی وہ نادِ صور سیرت آپ کی
دہر میں محروم طبقوں کی بھی شنوائی ہوئی
عدل کی ابھری صدائے نور سیرت آپ کی
آپ کی باتوں سے اب تک ہے معطر کوئے زیست
خامۂ خوشبو سے ہے مسطور سیرت آپ کی
اذن کا طالب ہے آقا بندۂ عاجز ظفرؔ
لکھ سکے منظوم اور ماثور سیرت آپ کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.