اسم تیرا ہے محمد تو تری ذات کریم
اسم تیرا ہے محمد تو تری ذات کریم
ذکر عالی ہے ترا اور ترا خلق عظیم
تو وہ داتا کہ عدو تیرے کرم سے نادم
اے کہ تو رفقِ مجسم اے رؤف اور رحیم
قافلے یوں تری یادوں کے سحر دم اترے
جیسے گلشن میں چلی آئے کہیں بادِ نسیم
تیرے ہوتے ہوئے کیوں کر نہ معطر ہو حیات
جب ترا ذکر معنبر ہے تری یاد شمیم
بس یہی بات رہی لطف فشاں خیر فزا
جرم جتنے بھی ہوں رہتا ہے ترا فضل عمیم
تیرے آنے ہی پہ موقوف ہے گھر کی رونق
تیری ہی چاپ کو ترسے ہے مرے دل کا حریمِ
اپنے نوریؔ کو عطا کیجیے دیدار کا جام
خوانِ انعام کا ہے یہ بھی نمک خوار قدیم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.