Font by Mehr Nastaliq Web

اسم تیرا ہے محمد تو تری ذات کریم

ظفر اقبال نوری

اسم تیرا ہے محمد تو تری ذات کریم

ظفر اقبال نوری

MORE BYظفر اقبال نوری

    اسم تیرا ہے محمد تو تری ذات کریم

    ذکر عالی ہے ترا اور ترا خلق عظیم

    تو وہ داتا کہ عدو تیرے کرم سے نادم

    اے کہ تو رفقِ مجسم اے رؤف اور رحیم

    قافلے یوں تری یادوں کے سحر دم اترے

    جیسے گلشن میں چلی آئے کہیں بادِ نسیم

    تیرے ہوتے ہوئے کیوں کر نہ معطر ہو حیات

    جب ترا ذکر معنبر ہے تری یاد شمیم

    بس یہی بات رہی لطف فشاں خیر فزا

    جرم جتنے بھی ہوں رہتا ہے ترا فضل عمیم

    تیرے آنے ہی پہ موقوف ہے گھر کی رونق

    تیری ہی چاپ کو ترسے ہے مرے دل کا حریمِ

    اپنے نوریؔ کو عطا کیجیے دیدار کا جام

    خوانِ انعام کا ہے یہ بھی نمک خوار قدیم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے