دلوں سے غم مٹاتا ہے محمد نام ایسا ہے
دلوں سے غم مٹاتا ہے محمد نام ایسا ہے
نگر اجڑے بساتا ہے محمد نام ایسا ہے
انہی کے نام سے پائی فقیروں نے شہنشاہی
خدا سے بھی ملاتا ہے محمد نام ایسا ہے
انہی کے ذکر سے روشن راتیں پھر لوٹ آتی ہیں
نصیبوں کو جگاتا ہے محمد نام ایسا ہے
درودوں کی مہک سے محفلیں آباد رہتی ہیں
میری نعتیں سجاتا ہے محمد نام ایسا ہے
محبت کے کنول کھلتے ہیں ان کو یاد کرنے سے
بڑی خوشبوئیں لاتا ہے محمد نام ایسا ہے
مدد حاصل ہے مجھ کو ہر گھڑی شاہِ مدینہ کی
میری بگڑی بناتا ہے محمد نام ایسا ہے
میں فخریؔ فکر دنیا و آخرت سب بھول جاتا ہوں
مجھے جب یاد آتا ہے محمد نام ایسا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.