Font by Mehr Nastaliq Web

اے کہ تیرا آستاں ماورائے خاص و عام ہے

زاہدہ خاتون

اے کہ تیرا آستاں ماورائے خاص و عام ہے

زاہدہ خاتون

MORE BYزاہدہ خاتون

    اے کہ تیرا آستاں ماورائے خاص و عام ہے

    کچھ میری بھی التجا ہے کچھ میرا بھی کام ہے

    کب مجھے آسائشِ قصرِ شہانہ چاہیے

    کوئے شہ میں اک بچھونے کا ٹھکانہ چاہیے

    جب تماشا گاہِ عالم سے نگاہ پھرنے کو ہو

    ختم جب ہو جائے ناٹک پر وہ جب گرنے کو ہو

    جا ملے مطلوب سے، جانِ سراپا انتظار

    ماہیِ تشنہ ہو بحرِ بیکراں سے ہم کنار

    میری تربت ہو الٰہی زیر پائے مصطفیٰ

    یہ دعا مقبول ہو یا رب برائے مصطفیٰ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے