اے کہ تیرا آستاں ماورائے خاص و عام ہے
اے کہ تیرا آستاں ماورائے خاص و عام ہے
کچھ میری بھی التجا ہے کچھ میرا بھی کام ہے
کب مجھے آسائشِ قصرِ شہانہ چاہیے
کوئے شہ میں اک بچھونے کا ٹھکانہ چاہیے
جب تماشا گاہِ عالم سے نگاہ پھرنے کو ہو
ختم جب ہو جائے ناٹک پر وہ جب گرنے کو ہو
جا ملے مطلوب سے، جانِ سراپا انتظار
ماہیِ تشنہ ہو بحرِ بیکراں سے ہم کنار
میری تربت ہو الٰہی زیر پائے مصطفیٰ
یہ دعا مقبول ہو یا رب برائے مصطفیٰ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.