Font by Mehr Nastaliq Web

یوں صراط حق کو سرور نے نمایاں کر دیا

ضمیر اختر نقوی

یوں صراط حق کو سرور نے نمایاں کر دیا

ضمیر اختر نقوی

MORE BYضمیر اختر نقوی

    یوں صراط حق کو سرور نے نمایاں کر دیا

    خونِ دل سے سارے رستے میں چراغاں کر دیا

    موت کو لبیک کہنا فطرتاً دشوار تھا

    کر بلا والوں نے اس مشکل کو آساں کر دیا

    بن گئے سبطِ پیمبر معنیٔ ذبحِ عظیم

    خواب ابراہیم کو منزل بہ داماں کر دیا

    دل کے ٹکڑوں سے سجا کر ریگ زارِ کربلا

    زینب و شبیر نے فطرت کو حیراں کر دیا

    شامیوں پر کھل گئے اسرارِ جہدِ کربلا

    قید تھیں زینب مگر کارِ نمایاں کر دیا

    پیکر کرب و بلا کی روح ہے بنتِ علی

    جس نے زندہ مقصدِ شاہِ شہیداں کر دیا

    کربلا کو لے کے جانا شام کے دربار تک

    کام مشکل تھا مگر زینب نے آسا کر دیا

    بخش کر زینب نے دنیا کو عزا شبیر کی

    ہر یزید عصر کے مٹنے کا ساماں کر دیا

    عصر کے لمحے میں خود صدیاں سمٹ کر آ گئیں

    صاحب والعصر نے قطرے کو طوفاں کر دیا

    حر کی پیشانی سے پوچھو پائے شہ کی تابشیں

    ذرۂ ناچیز کو مہرِ درخشاں کر دیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے