یوں صراط حق کو سرور نے نمایاں کر دیا
یوں صراط حق کو سرور نے نمایاں کر دیا
خونِ دل سے سارے رستے میں چراغاں کر دیا
موت کو لبیک کہنا فطرتاً دشوار تھا
کر بلا والوں نے اس مشکل کو آساں کر دیا
بن گئے سبطِ پیمبر معنیٔ ذبحِ عظیم
خواب ابراہیم کو منزل بہ داماں کر دیا
دل کے ٹکڑوں سے سجا کر ریگ زارِ کربلا
زینب و شبیر نے فطرت کو حیراں کر دیا
شامیوں پر کھل گئے اسرارِ جہدِ کربلا
قید تھیں زینب مگر کارِ نمایاں کر دیا
پیکر کرب و بلا کی روح ہے بنتِ علی
جس نے زندہ مقصدِ شاہِ شہیداں کر دیا
کربلا کو لے کے جانا شام کے دربار تک
کام مشکل تھا مگر زینب نے آسا کر دیا
بخش کر زینب نے دنیا کو عزا شبیر کی
ہر یزید عصر کے مٹنے کا ساماں کر دیا
عصر کے لمحے میں خود صدیاں سمٹ کر آ گئیں
صاحب والعصر نے قطرے کو طوفاں کر دیا
حر کی پیشانی سے پوچھو پائے شہ کی تابشیں
ذرۂ ناچیز کو مہرِ درخشاں کر دیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.