دولت ہے دل میں الفتِ خیرالانام کی
دولت ہے دل میں الفتِ خیرالانام کی
اب مجھ کو کچھ خبر نہیں اپنے مقام کی
ٹکڑے کیے ہیں چاند کے سورج پلٹ گیا
عظمت ہے کیا حضور علیہ السلام کی
آدم کی توبہ ہو کہ سفینہ ہو نوح کا
رکھ لی ہے لاج حق نے محمد کے نام کی
اللہ کے ساتھ محمد نامِ محمد ہے ہر جگہ
رفعت ہے کس قدر میرے آقا کے نام کی
سارے نبی ہیں چاند مگر چاند نا تمام
کیا شان ہے مدینہ کے ماہِ تمام کی
اقدس سفر مدینے کا ہے سر کے بل چلو
اور لب پہ ہوں صدائیں درود و سلام کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.