Font by Mehr Nastaliq Web

نور سے اپنے کیا حق نے تجھے جلوہ نما

عیش دہلوی

نور سے اپنے کیا حق نے تجھے جلوہ نما

عیش دہلوی

MORE BYعیش دہلوی

    نور سے اپنے کیا حق نے تجھے جلوہ نما

    آتش و آب و گل و باد کا واں دخل ہے کیا

    ہوں جہاں اپنے دل و جاں سے ملائک شیدا

    نسبتے نیست بذات تو بنی آدم را

    بر تر از عالم و آدم تو چہ عالی نسبی

    تجھ کو پہنچے نہ مسیحا نہ کلیم اور نہ ابن زرتشت

    اس کی دیتے ہیں شہادت فلک و کوہ و دشت

    پاسبانوں کی طرح چرخ تھا سر گرم گشت

    شب معراج عروج تو ز افلاک گذشت

    بمقامے کہ رسیدی نہ رسد ہیچ نبی

    سرورا تو ہے شفیع امم و نیک صفات

    ہے جہاں کے لیے پر فیض و کرم تیری ذات

    ہم ہیں محتاج نہایت کو ہیں پہنچی حاجات

    ماہمہ تشنہ لبا نیم و توئی آبِ حیات

    لطف فرما کہ ز حد می گزرد تشنہ لبی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے