نور سے اپنے کیا حق نے تجھے جلوہ نما
نور سے اپنے کیا حق نے تجھے جلوہ نما
آتش و آب و گل و باد کا واں دخل ہے کیا
ہوں جہاں اپنے دل و جاں سے ملائک شیدا
نسبتے نیست بذات تو بنی آدم را
بر تر از عالم و آدم تو چہ عالی نسبی
تجھ کو پہنچے نہ مسیحا نہ کلیم اور نہ ابن زرتشت
اس کی دیتے ہیں شہادت فلک و کوہ و دشت
پاسبانوں کی طرح چرخ تھا سر گرم گشت
شب معراج عروج تو ز افلاک گذشت
بمقامے کہ رسیدی نہ رسد ہیچ نبی
سرورا تو ہے شفیع امم و نیک صفات
ہے جہاں کے لیے پر فیض و کرم تیری ذات
ہم ہیں محتاج نہایت کو ہیں پہنچی حاجات
ماہمہ تشنہ لبا نیم و توئی آبِ حیات
لطف فرما کہ ز حد می گزرد تشنہ لبی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.