Font by Mehr Nastaliq Web

نگار_ارض_و_سما لا_الہ الا_اللہ

امجد حیدرآبادی

نگار_ارض_و_سما لا_الہ الا_اللہ

امجد حیدرآبادی

MORE BYامجد حیدرآبادی

    نگار ارض و سما لا الہ الا اللہ

    کلید قفل دعا لا الہ الا اللہ

    نشان راہ ہدیٰ لا الہ الا اللہ

    چراغ بزم خدا لا الہ الا اللہ

    فنا میں نقش بقا لا الہ الا اللہ

    یہی ہے طالب مولیٰ کا عروۃ الوثقیٰ

    صفت اسی کی ہے قرآں میں لاانفصام لھا

    یہی ہے شمع تجلی لیلۃ الاسریٰ

    یہی ہے پردہ کشائے رموز ما اوحیٰ

    عجب ہے صل علیٰ لا الہ الا اللہ

    مری نظر سے ہوئی محو ساری موجودات

    نہ سیآت سمجھتا ہوں میں نہ اب حسنات

    صفات رفع ہوئے دیکھتا ہوں جلوۂ ذات

    ہماری نفی ہوئی آج موجب اثبات

    وہ رخ سے پردہ ہٹا لا الہ الا اللہ

    تھی اس کو مشق شگوفے نئے کھلانے میں

    کمال گرچہ تھا ہر چیز کے بنانے میں

    کھنچی نہ صورت نقاش نقش خانے میں

    نظر نہ آیا نظیر اپنا جب زمانے میں

    خدا نے آپ کہا لا الہ الا اللہ

    کمی نہیں اے مالک ترے خزانے میں

    لگی نہ دیر کسی کو مراد پانے میں

    کھڑا ہے دیر سے امجدؔ اس آستانے میں

    سوائے تیرے مرا کون ہے زمانے میں

    فقیر کی ہے صدا لا الہ الا اللہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے