آنکھ ملتے ہی مروت آ گئی
دلچسپ معلومات
خمسہ عاشقانہ کے عنوان سے انور فرخ آبادی نے آزادؔ افغانی کی غزل پر تضمین لگائی ہے جسے اسمٰعیل آزاد قوال نے گایا ہے۔
آنکھ ملتے ہی مروت آ گئی
پیار کیا آیا مصیبت آ گئی
ناز اٹھانے سے نزاکت آ گئی
سامنے جب ان کی صورت آ گئی
دل ہوا صدقہ محبت آ گئی
آج مایوسی بھی ارماں بن گئی
زندگی رشک گلستاں بن گئی
دشمنیٔ جاں راحت جاں بن گئی
بے سر و سامانی ساماں بن گئی
تم جو آئے گھر میں برکت آ گئی
درد اٹھنا تھا کہ آرام آ گیا
پھر مرے لب پر ترا نام آ گیا
یہ دل ناکام بھی کام آ گیا
فتنۂ محشر لب بام آ گیا
اب سمجھ لیجئے قیامت آ گئی
غم بھری فریاد کی رکھ لے تو لاج
اک دل برباد کی رکھ لے تو لاج
انورؔ ناشاد کی رکھ لے تو لاج
یا خدا آزاد کی رکھ لے تو لاج
آج اک بت پر طبیعت آ گئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.