Font by Mehr Nastaliq Web

ساز_ازل سے مل کر نغمہ_نواز ہو جا

حیرت شاہ وارثی

ساز_ازل سے مل کر نغمہ_نواز ہو جا

حیرت شاہ وارثی

MORE BYحیرت شاہ وارثی

    ساز ازل سے مل کر نغمہ نواز ہو جا

    اس نور والضحیٰ سے جلوہ طراز ہو جا

    واللیل پڑھ کے ان کی زلف دراز ہو جا

    گر ہو سکے تو اے دل گرد حجاز ہو جا

    نور محمدی کا سربستہ راز ہو جا

    تجھ کو نصیب ہوگی عالم کی سرفرازی

    قربان تجھ پہ ہوگی سو جاں سے بے نیازی

    عظمت کریں گے تیری سب ترکی و حجازی

    تجھ پر نثار ہوگی محمود کی ایازی

    طیبہ میں جاکے پہلے تو خود ایاز ہو جا

    مٹ جا تو صدق دل سے اس پیکر وفا پر

    کونین بھی فدا ہیں جس ماہ پر ضیا ضیا پر

    نازاں ہے کبریائی جس عاشق خدا پر

    تن من نثار کر دے تو خاک کربلا پر

    صدقے حسین پر ہو اور سرفراز ہو جا

    اچھے ہیں یا برے ہیں جیسے ہیں آپ کے ہیں

    اب تو ہمیں نبھاؤ چوکھٹ پہ آ پڑے ہیں

    سن کر فغاں تمہاری دیکھو بلا رہے ہیں

    اے عاصیان امت جنت کے در کھلے ہیں

    فرماتے ہیں محمد اے در تو باز ہو جا

    بندہ نوازیوں کی یہ دھوم ہے یہ کثرت

    دیکھی کہیں نہ ہم نے یہ بات یہ کرامت

    یہ اہل بیت کی ہے ادنیٰ سی شان رحمت

    دونوں جہاں پہ حیرتؔ چھا جائے تیری حیرت

    کر مدح پنجتن کی اور بے نیاز ہو جا

    مأخذ :
    • کتاب : نقش حیرت (Pg. 27)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے