ساز_ازل سے مل کر نغمہ_نواز ہو جا
ساز ازل سے مل کر نغمہ نواز ہو جا
اس نور والضحیٰ سے جلوہ طراز ہو جا
واللیل پڑھ کے ان کی زلف دراز ہو جا
گر ہو سکے تو اے دل گرد حجاز ہو جا
نور محمدی کا سربستہ راز ہو جا
تجھ کو نصیب ہوگی عالم کی سرفرازی
قربان تجھ پہ ہوگی سو جاں سے بے نیازی
عظمت کریں گے تیری سب ترکی و حجازی
تجھ پر نثار ہوگی محمود کی ایازی
طیبہ میں جاکے پہلے تو خود ایاز ہو جا
مٹ جا تو صدق دل سے اس پیکر وفا پر
کونین بھی فدا ہیں جس ماہ پر ضیا ضیا پر
نازاں ہے کبریائی جس عاشق خدا پر
تن من نثار کر دے تو خاک کربلا پر
صدقے حسین پر ہو اور سرفراز ہو جا
اچھے ہیں یا برے ہیں جیسے ہیں آپ کے ہیں
اب تو ہمیں نبھاؤ چوکھٹ پہ آ پڑے ہیں
سن کر فغاں تمہاری دیکھو بلا رہے ہیں
اے عاصیان امت جنت کے در کھلے ہیں
فرماتے ہیں محمد اے در تو باز ہو جا
بندہ نوازیوں کی یہ دھوم ہے یہ کثرت
دیکھی کہیں نہ ہم نے یہ بات یہ کرامت
یہ اہل بیت کی ہے ادنیٰ سی شان رحمت
دونوں جہاں پہ حیرتؔ چھا جائے تیری حیرت
کر مدح پنجتن کی اور بے نیاز ہو جا
- کتاب : نقش حیرت (Pg. 27)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.