یہ سب ہے ان_کی شرارت کسی کو کیا معلوم
یہ سب ہے ان کی شرارت کسی کو کیا معلوم
بھری ہے دل میں عداوت کسی کو کیا معلوم
ہوئی ہے کس سے حمایت کسی کو کیا معلوم
کسی کے دل کی محبت کسی کو کیا معلوم
ہمارے دل کی حقیقت کسی کو کیا معلوم
ہم کتنی بار کہے ہیں ذرا حساب کرو
تم اپنے کو بھی حسینوں میں انتخاب کرو
جوان ہو چکے اب تو ذرا حجاب کرو
خدا کے واسطے تم یوں نا بے نقاب پھرو
کسی کی کیسی ہے نیت کسی کو کیا معلوم
جو چاہیں عشق میں ہم وہ کتاب لکھیں گے
جگر کی ٹیس یا جان عذاب لکھیں گے
اب آگے دیکھیے کیا کیا جناب لکھیں گے
یقین ہے کہ وہ خط کا جواب لکھیں گے
مگر نوشتۂ قسمت کسی کو کیا معلوم
وہ کفر ساز کے مذہب کو کوئی کیا جانے
تعین شکر لب کو کوئی کیا جانے
بیان مہرؔ کے مطلب کو کوئی کیا جانے
جناب داغ کے مشرب کو کوئی کیا جانے
چھپے ہوئے ہیں یہ حضرت کسی کو کیا معلوم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.