Font by Mehr Nastaliq Web

یہ سب ہے ان_کی شرارت کسی کو کیا معلوم

مہر حیدرآبادی

یہ سب ہے ان_کی شرارت کسی کو کیا معلوم

مہر حیدرآبادی

MORE BYمہر حیدرآبادی

    یہ سب ہے ان کی شرارت کسی کو کیا معلوم

    بھری ہے دل میں عداوت کسی کو کیا معلوم

    ہوئی ہے کس سے حمایت کسی کو کیا معلوم

    کسی کے دل کی محبت کسی کو کیا معلوم

    ہمارے دل کی حقیقت کسی کو کیا معلوم

    ہم کتنی بار کہے ہیں ذرا حساب کرو

    تم اپنے کو بھی حسینوں میں انتخاب کرو

    جوان ہو چکے اب تو ذرا حجاب کرو

    خدا کے واسطے تم یوں نا بے نقاب پھرو

    کسی کی کیسی ہے نیت کسی کو کیا معلوم

    جو چاہیں عشق میں ہم وہ کتاب لکھیں گے

    جگر کی ٹیس یا جان عذاب لکھیں گے

    اب آگے دیکھیے کیا کیا جناب لکھیں گے

    یقین ہے کہ وہ خط کا جواب لکھیں گے

    مگر نوشتۂ قسمت کسی کو کیا معلوم

    وہ کفر ساز کے مذہب کو کوئی کیا جانے

    تعین شکر لب کو کوئی کیا جانے

    بیان مہرؔ کے مطلب کو کوئی کیا جانے

    جناب داغ کے مشرب کو کوئی کیا جانے

    چھپے ہوئے ہیں یہ حضرت کسی کو کیا معلوم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے