سب شرف ختم ہیں تجھ پر نسبی_و_حسبی
دلچسپ معلومات
خمسہ بر غزل جان محمد قدسیؔ
سب شرف ختم ہیں تجھ پر نسبی و حسبی
ہے ترے نام پہ موقوف شفاعت طلبی
میں تو کیا کہوں یہ ہی کہتے ہیں ولی اور نبی
مرحبا سید مکی مدنی العربی
دل و جاں باد فدایت چہ عجب خوش لقبی
دیکھ کر حسن خداداد کا تیرے عالم
یوں تو سو جان سے عاشق ہوا سارا عالم
یوسف مصر مگر کہتے تھے کھا کھا کے قسم
من بے دل بہ جمال تو عجب حیرانم
اللہ اللہ چہ جمالست بدیں بوالعجبی
ایک دن آپ نے اللہ سے یوں عرض کیا
دیا موسیٰ کو عصا تونے مجھے کیا بخشا
پس ندا آئی کہ موسیٰ کا تو یاں ذکر ہے کیا
نسبت نیست بذات تو بنی آدم را
برتر از عالم و آدم تو چہ عالی نسبی
خلق کرتا نہ اگر نور تیرا رب غفور
تو نہ یہ ارض و سما بنتے نہ یہ حور و قصور
ہوئی خاطر تری یاں تک تو خدا کو منظور
ذات پاک تو کہ در ملک عرب کرد ظہور
زاں سبب آمدہ قرآں بزبان عربی
دیکھا موسیٰ نے فقط طور کو بادوا یک دشت
اور سوئے نار خلیل آئے برائے گلگشت
ہوا منظور جو تجھ کو کروں میں بھی گشت
شب معراج عروج تو ز افلاک گذشت
بمقامے کہ رسیدی نرسد ہیچ نبی
سنتا ہوں ہے نظر لطف میں تیری یہ اثر
جائے جنت میں بچے آتش دوزخ سے بشر
ہوں گنہ گار شہا آیا ہوں تیرے در پر
چشم رحمت بکشا سوئے من انداز نظر
اے قریشی لقبی ہاشمی و مطلبی
بڑی تقصیر ہوئی سرور دیں شاہ امم
اپنی گستاخی پہ ہے مجھ کو ندامت ہر دم
بخش دے اب تو خطا بہر خدائے اکرم
نسبت خود بہ سگت کردم و بس منفعلم
زانکہ نسبت بہ سگ کوئے تو شد بے ادبی
ایک دل ایک جگر تیسری ہے میری ذات
تینوں ہم تشنۂ دیدار ہیں اے نیک صفات
نہ کہیں تجھ سے تو کس سے کہیں اب ہم یہ بات
ما ہمہ تشنہ لبانیم توئی آب حیات
لطف فرما کہ زحد میگزرد تشنہ لبی
کامیاب آپ کے در سے ہیں سبھی خاص اور عام
حیف ہے باغ جہاں میں رہوں ایک میں ناکام
گل امید کھلے میرا بھی اے شاہ انام
نخل بستان مدینہ ز تو سرسبز مدام
زاں شدہ شہرۂ آفاق بہ شیریں رطبی
درد فرقت سے تھا بیتاب وہ مرد عجمی
کسی صورت سے قرار اس کو نہ آتا تھا ذری
جب مزیبؔ سے تیری اس نے یہ تعریف سنی
سیدی انت حبیبی و طیب قلبی
آمدہ سوئے تو قدسی پئے درماں طلبی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.