وہاں پینے پلانے کے ہیں افسانے ہی افسانے
وہاں پینے پلانے کے ہیں افسانے ہی افسانے
جدھر دیکھو ادھر پاؤ گے پیمانے ہی پیمانے
ملیں گے مے کشی میں مست مستانے ہی مستانے
نگاہوں میں سما جائیں گے مے خانے ہی مے خانے
نظر بغداد میں آئیں گے دیوانے ہی دیوانے
انہیں مستوں کی محفل میں ذرا آنے کی دیری ہے
ضیائے حسن پر انوار چمکانے کی دیری ہے
انہیں شیدائیوں کو جلوا دکھلانے کی دیری ہے
نقاب ان کے رخ روشن سے اٹھ جانے کی دیری ہے
فدا ہونے کو حاضر ہوں گے دیوانے ہی دیوانے
بسی ہے جب سے میرے دل میں ان کے پیار کی دنیا
محبت میں ڈھلی ہے طالب دیدار کی دنیا
میرا قلب پریشاں ہے میرے سرکارؐ کی دنیا
گلستان جہاں میرے لیے ہے خار کی دنیا
مجھے ہر سو نظر آتے ہیں ویرانے ہی ویرانے
بہ جز حب شہ والا ولایت مل نہیں سکتی
کرامت پا نہیں سکتا نظر جب تک نہ ہو ان کی
ولایت کا کرے دعویٰ کوئی کس کی مجال ایسی
قطب ہو نقشبندی ہو کہ نازاںؔ کوئی ابدالی
جناب غوث کے سب ہیں یہ دیوانہ ہی دیوانہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.