Font by Mehr Nastaliq Web

وہاں پینے پلانے کے ہیں افسانے ہی افسانے

نازاں شولا پوری

وہاں پینے پلانے کے ہیں افسانے ہی افسانے

نازاں شولا پوری

MORE BYنازاں شولا پوری

    وہاں پینے پلانے کے ہیں افسانے ہی افسانے

    جدھر دیکھو ادھر پاؤ گے پیمانے ہی پیمانے

    ملیں گے مے کشی میں مست مستانے ہی مستانے

    نگاہوں میں سما جائیں گے مے خانے ہی مے خانے

    نظر بغداد میں آئیں گے دیوانے ہی دیوانے

    انہیں مستوں کی محفل میں ذرا آنے کی دیری ہے

    ضیائے حسن پر انوار چمکانے کی دیری ہے

    انہیں شیدائیوں کو جلوا دکھلانے کی دیری ہے

    نقاب ان کے رخ روشن سے اٹھ جانے کی دیری ہے

    فدا ہونے کو حاضر ہوں گے دیوانے ہی دیوانے

    بسی ہے جب سے میرے دل میں ان کے پیار کی دنیا

    محبت میں ڈھلی ہے طالب دیدار کی دنیا

    میرا قلب پریشاں ہے میرے سرکارؐ کی دنیا

    گلستان جہاں میرے لیے ہے خار کی دنیا

    مجھے ہر سو نظر آتے ہیں ویرانے ہی ویرانے

    بہ جز حب شہ والا ولایت مل نہیں سکتی

    کرامت پا نہیں سکتا نظر جب تک نہ ہو ان کی

    ولایت کا کرے دعویٰ کوئی کس کی مجال ایسی

    قطب ہو نقشبندی ہو کہ نازاںؔ کوئی ابدالی

    جناب غوث کے سب ہیں یہ دیوانہ ہی دیوانہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے