تھا جو از_بس_کہ میں عصیاں میں خراب آلودہ
دلچسپ معلومات
خمسہ بر غزل حافظؔ شیرازی۔
تھا جو از بس کہ میں عصیاں میں خراب آلودہ
طاعت مکر سے رہتا تھا حجاب آلودہ
اہل تقوی کا سمجھ دانہ و آب آلودہ
دوش رفتم بدر میکدہ خواب آلودہ
خرقہ تر دامن و سجادہ شراب آلودہ
لے گیا شوق جو واں مجھ کو اٹھا دوش بدوش
جاتے ہی در پہ گرا پیر مغاں کے مدہوش
دیکھ کر مجھ کو پڑا خواب میں غفلت کے خموش
آمد افسوس کناں مغبچۂ بادہ فروش
گفت بیدار شو اے رہرو خواب آلودہ
جب میں جاگا تو کہا اس سے بہ شیریں سخنی
یعنی ہے جان تری عشق مجازی کی بھنی
دور کر دل سے یہ غفلت جو ہے خوباں کی چنی
در ہوائے لب شیریں دہناں چند کنی
جوہر روح بیاقوت نداب آلودہ
اے ہوس ناک یہ ہے میکدۂ قدس مقام
بیٹھے مستان ازل کرتے ہیں یاں شرب مدام
تو بھی وہ مے جو پیا چاہے تو اے نیک انجام
سست شوئے کن وانگہ بخرابات خرام
تا نہ گردد ز تو ایں دیر خراب آلودہ
گر تجھے عشق حقیقی نے ہے کچھ دی توفیق
تو تو سیکھ آن کے یاں اہل طریقت کا طریق
ایک ادنیٰ سا یہ اس عشق کا نکتہ ہے دقیق
آشنایان رہ عشق دریں بحر عمیق
غرق گشتند و نہ گشتند بہ آب آلودہ
یہ وہ دریا نہیں تو جس میں کرے آکے شنا
یہ تو ہے معدن انوار و یقین صدق و صفا
گر تو چاہے کہ یہاں آوے تو اے غرق ریا
پاک صافی شوا و از چاہ طبیعت بدر آ
کہ صفائی نہ دہد آب تراب آلودہ
ہم تو پھرتے ہیں نظیرؔ عشق میں اب خانہ بدوش
کل عجب طرح کا اک نکتہ ہوا گوہر گوش
کچھ جو حافظ نے کہا یار سے ہو دوش بدوش
گفت حافظؔ برو ایں نکتہ بہ یاراں مفروش
آہ ازیں لطف با انواع عتاب آلودہ
- کتاب : کلیات نظیر اکبرآبادی (Pg. 197)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.