Font by Mehr Nastaliq Web

وہی جلوہ کسی کو ہو گئی تھی جس سے حیرانی

ناظم سنبھلی

وہی جلوہ کسی کو ہو گئی تھی جس سے حیرانی

ناظم سنبھلی

MORE BYناظم سنبھلی

    وہی جلوہ کسی کو ہو گئی تھی جس سے حیرانی

    وہی جلوہ کہ دیکھ آیا کوئی جس کو بہ آسانی

    وہی جلوہ کہ ہے دونوں جہاں میں جس کی تابانی

    وہی جلوہ یہاں بھی کر رہا ہے نور افشانی

    شریک بزم اقدس ہو کے کر لو قلب نورانی

    ہم اس کے ہیں کہ جس کی ہے سراپا ذات نورانی

    ہم اس کے ہیں کہ جس کا ہے لقب محبوب یزدانی

    ہم اس کے ہیں نہیں کونین میں جس کا کوئی ثانی

    ہم اس کے ہیں کہ جس نے آل کی کی ہم پہ قربانی

    ہمارے سامنے نار جہنم کیوں نہ ہو پانی

    مجھے درکار ہے کب ہے جہانبانی و سلطانی

    تماشا ہے فسوں ہے کھیل ہے یہ بزم امکانی

    مرے نزدیک یہ ارض و سما ہیں سب کے سب فانی

    نہ لوں گا میں اگر مجھ کو ملے گا باغ رضوانی

    جو ہاتھ آ جائے قسمت سے ترے روضہ کی دربانی

    کچھ اس درجہ ہوئی ہے آج کل غم کی فراوانی

    کچھ اس درجہ ترقی پر ہے ان روزوں پریشانی

    کچھ اس درجہ ہوا ہے چرخ میرا دشمن جانی

    مرے گھر رات دن رنج و الم کی اب ہے مہمانی

    خبر لیجئے خدا را آکے اب محبوب یزدانی

    بتاؤں کیا کہ ہے بحر الم میں کیسی طغیانی

    مرے سر سے بہت ہی اب تو اونچا ہو گیا پانی

    سمجھتا ہوں کہ میری جان تو اس غم میں ہے جانی

    مگر اتنی تمنا ہے مری اسلام کے بانی

    دم آخر جھکے تیرے ہی در پر میری پیشانی

    مجھے پروا نہیں گر بحر عصیاں میں ہے طغیانی

    پہنچ جائے گی ساحل پر مری کشتی بہ آسانی

    وہ عاصی ہوں کہ جس کی رحمت حق خود ہے دیوانی

    گناہوں سے نہیں محشر میں کچھ مجھ کو پشیمانی

    مرا جب کام ہے ناظمؔ محمدؐ کی ثنا خوانی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے