Font by Mehr Nastaliq Web

پیغام_حق_پرستی بہ_نام_خدا دیا

قیصر رتناگیروی

پیغام_حق_پرستی بہ_نام_خدا دیا

قیصر رتناگیروی

MORE BYقیصر رتناگیروی

    دلچسپ معلومات

    شہیدی۔

    پیغام حق پرستی بہ نام خدا دیا

    شبیر نے زمانے کو درس وفا دیا

    ظلم و ستم کا نام جہاں سے مٹا دیا

    جو ہو سکا نہ ہوگا وہ کر کے دکھا دیا

    سجدے میں سر کٹا دیا گھر بھی لٹا دیا

    مہماں بلا کے ڈھاتے رہے ظلم اشقیا

    آل نبی کو تین دن پانی نہیں دیا

    موت اور زندگی کا تھا بیعت پہ فیصلہ

    دیکھی گئی نہ تشنگئی آل مصطفیٰ

    دست کرم نے جام شہادت پلا دیا

    گھر لٹ رہا تھا پر نہ ہوئے لب کشا حسین

    کرتے رہے ستم یہ بھی شکر خدا حسین

    سو بار زندگی ملے کر دوں فدا حسین

    تم کو علی کے لال نشہ کربلا حسین

    صبر و رضا کا حق نے پیمبر بنا دیا

    امت کا غم تھا آپ کو خیر الوریٰ کے بعد

    بخشش ہی مدعا رہا ان کا دعا کے بعد

    جوہر کا مصرع خوب ہے نام خدا کے بعد

    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

    مرگ حسین نے یہ کرشمہ دکھا دیا

    پردیس میں ہو یوں کوئی بے گھر نہیں نہیں

    چھوٹے کسی بہن سے برادر نہیں نہیں

    بیوہ سے ہو جدا کوئی شوہر نہیں نہیں

    تلقین اس پہ صبر کی قیصرؔ نہیں نہیں

    غم پھر غم حسین تھا طوفاں اٹھا دیا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے