Font by Mehr Nastaliq Web

امت_عاصی کو کلمہ_گو تمہارا کر دیا

صبا افغانی

امت_عاصی کو کلمہ_گو تمہارا کر دیا

صبا افغانی

MORE BYصبا افغانی

    امت عاصی کو کلمہ گو تمہارا کر دیا

    ہم سیہ کاروں کی بخشش کا سہارا کر دیا

    ایک اک ذرے کو گویا ماہ پارہ کر دیا

    اوج پر یوں حق نے قسمت کا ستارا کر دیا

    تم کو اے شاہ عرب رہبر ہمارا کر دیا

    میرے جان و دل تصدق آپ پر یا مصطفیٰ

    شاہ بطحا آپ ہیں بے شک حبیب کبریا

    کون کر سکتا ہے نور حق کی توصیف و ثنا

    اک ادائے خاص تھی شق القمر کا معجزہ

    یعنی انگشت شہادت سے اشارا کر دیا

    آرزوئے دید آنکھوں میں مری لہرا گئی

    یک بہ یک قلب حزیں پر ایک مستی چھا گئی

    کیف پرور اک مسرت روح کو گرما گئی

    میرے جسم ناتواں میں دفعتاً جان آ گئی

    جب کسی نے تذکرہ آقا تمہارا کر دیا

    زندگی کا میری مولا اب کوئی چارہ نہیں

    چارہ گر بھی دم بخود ہیں کوئی کچھ کہتا نہیں

    بس یہ حسرت ہے کہ روضہ آپ کا دیکھا نہیں

    پاس بلوا لیجئے اب ضبط کا یارا نہیں

    صدمۂ فرقت نے دل کو پارہ پارہ کر دیا

    لائے جب تشریف دنیا میں شہ امی لقب

    ہو رہا تھا چرخ سے پیہم نزول فضل رب

    ظلمتیں جو کفر کی تھیں ہو گئیں کافور سب

    مرحبا صد مرحبا اے طلعت ماہ عرب

    طالب دیدار کو وقف نظارہ کر دیا

    اللہ اللہ امت عاصی کی یہ خوش قسمتی

    رحمت حق نے بنایا آپ کو اس کا نبی

    حشر میں دیکھے کوئی شان شفاعت آپ کی

    ہو گیا باران رحمت بخشش امت ہوئی

    آپ کی چشم کرم نے جب اشارہ کر دیا

    اس سے بڑھ کر خوش نصیبی اور ہو سکتی ہے کیا

    زندگی میں سبز گنبد کا نظارہ ہو گیا

    شکر ہو کیوں کر ادا اس کاتب تقدیر کا

    روضۂ اطہر پہ میری موت نے آ کر صباؔ

    زندۂ جاوید ہونے کا سہارا کر دیا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے