Font by Mehr Nastaliq Web

کہاں میں ہوں الٰہی اور کہاں شہر_مدینہ ہے

نا معلوم

کہاں میں ہوں الٰہی اور کہاں شہر_مدینہ ہے

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    کہاں میں ہوں الٰہی اور کہاں شہر مدینہ ہے

    اسی اندوہ میں یارو مرا دشوار جینا ہے

    غم ہجر پیمبر میں مرا صد چاک سینہ ہے

    دل و جاں سے دعا اپنی یہی روز و شبینہ ہے

    دکھا دے یا خدا کیسا محمدؐ کا مدینہ ہے

    سنا ہے ہم نے واں جا کر کے مر جانا بھی جینا ہے

    دیار ہند کو جو چھوڑ کر یثرب میں جاتے ہیں

    مزا فردوس کا گویا وہ دنیا ہی میں پاتے ہیں

    بڑی قسمت کے ہیں یہ لطف جو انساں اٹھاتے ہیں

    ترستے ہیں ہمیں کمبخت اور یوں گل مچاتے ہیں

    دکھا دے یا خدا کیسا محمدؐ کا مدینہ ہے

    سنا ہے ہم نے واں جا کر کے مر جانا بھی جینا ہے

    خدا جانے مدینہ میں ہمیں کب وہ بلاویں گے

    نہیں معلوم کب ہم کو رخ انور دکھاویں گے

    ہمارے بخت خوابیدہ کو کب دیکھیں جگاویں گے

    غنی کب دولت دیدار سے ہم کو بناویں گے

    دکھا دے یا خدا کیسا محمدؐ کا مدینہ ہے

    سنا ہے ہم نے واں جا کر کے مر جانا بھی جینا ہے

    سنگھا دے لا کے خوشبو توہی اس زلف معنبر کی

    خبر لے اے صبا جلدی مری اس جان مضطر کی

    سنا دے لا کے خوش خبری اگر وصل پیمبر کی

    تو حالت بگڑی بن جائے ابھی ناچیز سرورؔ کی

    دکھا دے یا خدا کیسا محمدؐ کا مدینہ ہے

    سنا ہے ہم نے واں جا کر کے مر جانا بھی جینا ہے

    اگرچہ خواب ہی میں دیکھ لوں صورت پیمبر کی

    رکھوں خواہش نہ دل میں حور کی جنت کی کوثر کی

    نہ پوچھو بے قراری دوستو مجھ حال مضطر کی

    دل و جاں سے یہ ہے اب تو دعا ہر وقت سرورؔ کی

    دکھا دو یا الٰہی وہ مدینہ کیسی بستی ہے

    کہ جس پر رات دن تیری بڑی رحمت برستی ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے