Font by Mehr Nastaliq Web

بے_خودی میں داستان_غم سنا دیتا ہوں میں

نا معلوم

بے_خودی میں داستان_غم سنا دیتا ہوں میں

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    بے خودی میں داستان غم سنا دیتا ہوں میں

    شور نالوں سے قیامت کا مچا دیتا ہوں میں

    چرخ کیا ہے عرش تک کو بھی ہلا دیتا ہوں میں

    ہر بشر کو خون کے آنسو رلا دیتا ہوں میں

    بیٹھے بیٹھے فتنۂ محشر جگا دیتا ہوں میں

    رحم کر اے بد گمانی کچھ تو آخر رحم کر

    گر نہ جائے یاس کی بجلی میری امید پر

    بڑھ گیا ہے اشتیاق دید جاناں اس قدر

    جب سنا دیتا ہے کوئی ان کے آنے کی خبر

    رہ گزر میں دیدۂ حسرت بچھا دیتا ہوں میں

    ہے شب تاریک ہجراں اور نگاہیں بیقرار

    دم لبوں پر آ گیا ہے دل ہے وقف انتظار

    اے مسیحا رحم کے قابل ہے میرا حال زار

    تو جفا کرتا ہے میں کرتا ہوں جان و دل نثار

    دیکھ ظالم ظلم کے بدلے بھی کیا دیتا ہوں میں

    ہم تو جاتے ہیں بلا سے کچھ بھی ہو سود و زیاں

    اب خزاں آئے چمن میں یا بہار بے خزاں

    یاس خود داری نے آخر کر دیا بے خانماں

    کیا بگاڑے گی میرا اب گر کے برق نا گہاں

    آشیاں پہلے ہی اے عاقل جلا دیتا ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے