مخمس
صوفی سنتوں کے ذریعہ لکھے گئے مخمس کا ایک بڑا سرمایہ صوفی نامہ پر موجود ہے۔پڑھیں اور مستفید ہوں۔
مارہرہ کے ایک خوش حال صوفی، علم و ادب کی فضاؤں سے معمور اور رشد و ہدایت میں مشہور۔
لکھنو کے سب سے گرم مزاج شاعر، میر تقی میر کے ہم عصر اور مصحفی کے ساتھ چشمک کے لیے مشہور
اردو کے ممتاز نعت گو شاعر تھے، ابتدا میں غزل کہتے تھے مگر سفرِ حجاز کے بعد نعت گوئی کو اپنا مستقل میدان بنایا، گیارہ مرتبہ حج کی سعادت حاصل کی، جس کے باعث ’’زائرِ حرم‘‘ کے لقب سے مشہور ہوئے، ان کے نعتیہ مجموعوں میں گلبانگِ حرم، بستانِ حرم اور الاسماء المنظومہ لنبی الرحمۃ نمایاں ہیں۔
گدڑی شاہ ثالث کے نام سے معروف، ممتاز صوفی بزرگ، شاعر، مصنف اور عثمانیہ چلہ، اجمیر کے سجادہ نشیں تھے، تصوف، عرفان اور عشقِ الٰہی پر آپ کی متعدد تصانیف اور گیارہ شعری مجموعے شائع ہوئے جبکہ آپ کی تعلیمات کا بنیادی محور عشق، اخلاص اور احترامِ انسانیت تھا۔
حضرت شاہ اکبر داناپوری کے صاحبزادے اور خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ، داناپور کے سجادہ نشین
نابینا حافظِ قرآن، صاحبِ تصنیف اور اردو و فارسی کے حمد و نعت گو شاعر تھے۔
پھلواری شریف کے عظیم صوفی شاعر اور خانقاہ مجیبیہ، پھلواری شریف کے سجادہ نشیں تھے۔
ممتاز شاعر، جنہوں نے ہندوستانی ثقافت اور تہواروں پر نظمیں لکھیں، ہولی، دیوالی اور دیگر موضوعات پر نظموں کے لئے مشہور
حضرت شاہ نعمت اللہ قادری کے نواسے اور حضرت شمس الدین ابوالفرح طلعتتؔ کے پوتے
پٹنہ کے مشہور رئیس سید شاہ نورالرحمن لال عظیم آبادی کے صاحبزادے اور شاد عظیم آبادی کے شاگرد
اردو کے ممتاز نعت گو شاعر تھے، ان کے کلام میں عشقِ رسول، سوز و گداز اور سادگیِ بیان نمایاں ہے۔