نہایت صدمۂ فرقت سے ہوں رنجور یا اللہ
نہایت صدمۂ فرقت سے ہوں رنجور یا اللہ
دکھا دے مجھ کو اپنا جلوہ پُرنور یا اللہ
جہاں تک صبر ممکن تھا کیا اب ہو نہیں سکتا
تپِ فرقت نے ایسا کردیا معذور یا اللہ
غمِ دنیا ر ہے باقی نہ ہو کچھ فکر عقبیٰ کی
مئے الفت سے کر ایسا مجھے مخمور یا اللہ
اگر چہ قابلِ دیدار میں ہرگز نہیں لیکن
کر اپنے فضل و احساں سے مجھے مسرور یا اللہ
نہ خواہش مال و زر کی ہے نہ طالب خلد و کوثر کا
مجھے تو دل سے ہے تیری رضا منظور یا اللہ
برا ہوں یا بھلا ہوں میں غرض جیسا بھی ہوں جو ہوں
یہ تیرا بندۂ ناچیز ہوں مشہور یا اللہ
میرا حال پریشاں ان دنوں ہے رحم کے قابل
غمِ فرقت سے دل میں ہوگیا ناسور یا اللہ
کر اپنے وصل کی دولت سے مالا مال رستمؔ کو
بھلا اس طور سے کب تک رہے وہ دور یا اللہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.