باغِ احمد کے شجر آ جائیے
دلچسپ معلومات
عرضیِ امامِ زمانہ
باغِ احمد کے شجر آ جائیے
شیرِ یزداں کے پسر آ جائیے
منتظر ہے یہ زمین و آسماں
کہہ رہے ہیں یہ شجر آ جائیے
ہے اندھیرا چار سو چھایا ہوا
لے کے نورانی سحر آ جائیے
شب کو پُر روشن بنانے کے لیے
صحنِ زہرا کے قمر آ جائیے
کہہ رہا ہے کب سے کعبہ بس یہی
کھول دوں دیوار و در آ جائیے
ختم کرنے منکرِ حیدر کو اب
شیرِ حق کے شیرِ نر آ جائیے
العجل کہتی ہیں مخلوقِ خدا
اے امامِ بحر و بر آ جائیے
سیدہ کا واسطہ دیتے ہیں ہم
ہو دعائیں با اثر، آ جائیے
تیرہ کا جلوہ ہے تجھ سے ہی عیاں
اے امامت کے ثمر آ جائیے
نام تیرا جپ رہے ہیں ہر گھڑی
خضر و عیسیٰ رات بھر، آ جائیے
باہر امامت کے صدف سے اب ذرا
اے امامت کے گوہر آ جائیے
منتظر اک آپ کے دیدار کو
ہیں ہماری چشمِ تر، آ جائیے
اس سے پہلے ہو نہ جائے یہ کہیں
ختم سانسوں کا سفر آ جائیے
عرضیاں یوں کب تلک ڈالیں گے ہم
اب ذرا لینے خبر آ جائیے
آپ کی نعلین پر زیدؔ و حسنؔ
چاہتے ہیں رکھنا سر آ جائیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.