Sufinama

چندا جھلکے یہی گھٹمانی اندھی آنکھن سوجھے ناہیں

کبیر

چندا جھلکے یہی گھٹمانی اندھی آنکھن سوجھے ناہیں

کبیر

MORE BYکبیر

    چندا جھلکے یہی گھٹمانی اندھی آنکھن سوجھے ناہیں

    یہی گھٹ چندا یدی گھٹ سور یہی گھٹ گرجئے انہد تور

    یہی گھٹ باجئے طبل نسان بہرا سبد سنئے نہی کان

    جب لگ میری میری کری تب لگ کاج ایکو نہی سرئے

    جب میری ممتا مر جائے تب پربھو کاج سنچارے آے

    جب لگی سگھ رہے بن ماں ہی تب لگی وہ بن پھولے ناہی

    الٹ سیار سیہ کو کھاے تب وہ بن پھولے ہریائے

    گیان کے کارن پھولے بنرائے پھل لگے پر پھولے سکھائے

    مریگا پاس کستوری باس آپ نہ کھوجے کھوجے گھاس

    اس گھٹ (وجود) میں چاند جھلکتا ہے لیکن اندھی آنکھوں کو دکھائی نہیں دیتا، اسی گھٹ میں چاند ہے اور اسی گھٹ میں سورج اور اسی گھٹ میں ابدیت کا ساز چھڑا ہوا ہے۔ اس گھٹ میں نقارے بج رہے ہیں لیکن بہرے کانوں کو کچھ سنائی نہیں دیتا، جب تک آدمی میری میری کرتا رہتا ہے کوئی کام نہیں بنتا، جب ممتا مر جاتی ہے تب پربھو آکر کام سنوارتے ہیں، عمل کا مقصد صرف علم (عرفان) ہے لیکن جب علم (عرفان) آ جاتا ہے تو عمل بیکار ہو جاتا ہے، جیسے پھول پھل پیدا کرنے کے لیے کھلتا ہے، پھل آنے کے بعد پھول مرجھا جاتا ہے، مشک خود ہرن کے نافے میں ہوتا ہے (جس کی خوشبو اسے بے قرار رکھتی ہے) لیکن وہ اس کو اپنے جسم کے بجائے گھاس میں تلاش کرتا ہے۔

    (ترجمہ: سردار جعفری)

    مأخذ :
    • کتاب : کبیر سمگر (Pg. 766)
    • Author : کبیر
    • مطبع : ہندی پرچارک پبلیکیشن پرائیویٹ لیمیٹید، وارانسی (2001)
    • اشاعت : 5th

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY