آشفتہ مہروئے پر ناز و ستم گارم
آشفتہ مہروئے پر ناز و ستم گارم
من کشتہ ابروئے آں دلبر عیارم
میں اس حسین چہرے والے محبوب کے ناز و ستم پر فریفتہ ہوں،
میں اس عیار دلبر کی ابرو کے اشاروں کا مارا ہوا ہوں۔
بر یاد سیہ چشمے ہمہ روز سیاہم شد
وز ناوک مژگانش صد خار بہ دل دارم
اس کی سیاہ آنکھوں کی یاد میں میرا ہر دن تاریک ہو گیا ہے،
اور اس کی پلکوں کے تیروں سے میرے دل میں سینکڑوں کانٹے چبھ رہے ہیں۔
از زلف پریشانش شد خانہ بہ دوش من
در مصحف روئے او آیات خدا دارم
اس کی پریشان زلفوں نے مجھے خانہ بدوش بنا دیا ہے،
اور اس کے چہرے کی کتاب میں مجھے خدا کی نشانیاں دکھائی دیتی ہیں۔
عشق آمد و شد ساری چوں بو بگلاب اندر
او در من و من در وے سریست ز اسرارم
عشق آیا اور یوں میرے وجود میں سرایت کر گیا جیسے خوشبو گلاب میں رچ بس جاتی ہے،
وہ مجھ میں ہے اور میں اس میں ہوں، اس میں ایک گہرا راز پوشیدہ ہے۔
بیروں نہ ز دم قدمے ویں طرفہ تماشابیں
پر آبلہ شد پایم عمریست کہ سیارم
اس حیرت انگیز نظارے کو دیکھو کہ میں ایک لمحہ کے لئے بھی باہر قدم نہیں رکھتا،
میرے پاؤں میں چھالے پڑ گئے ہیں، عمر بھر میں اسی تلاش میں سرگرداں ہوں۔
قد کان و معہ ما کان من الاکوان
الان کماکان مشہود دل زارم
وہی ذات ہے جو پہلے بھی تھی اور کائنات کے ساتھ بھی تھی،
اور اب بھی ویسی ہی ہے، یہی میرے بے قرار دل پر منکشف ہے۔
در کوئے خدا بیناں زاں روز کہ شد گذرم
از مذہب خود بینی بیزارم و بیزارم
جب سے میرا گزر خدا والوں کی گلی میں ہوا ہے،
میں خود پرستی کے مذہب سے بیزار ہو چکا ہوں، بالکل بیزار۔
تا ساقی مستانم مے ریختہ در کامم
عریان و خراباتم رقصانم و سرشارم
جب سے میرے مستانہ ساقی نے میرے منہ میں محبت کی مے انڈیلی ہے،
میں بے خود، دنیا سے بے نیاز، رقصاں اور سرشار ہوں۔
تا یافتہ ام خبرے از باب علوم دل
دلدادہ بہ مہرؔ آں شہ حیدر کرارم
جب سے مجھے دل کے علوم کے دروازے کی کچھ خبر ملی ہے،
میں اُس شہِ حیدرِ کرار (حضرت علیؓ) کی محبت میں سراپا ڈوبا ہوا ہوں۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.