اے آں کہ جمال تست در عین و عیان من
اے آں کہ جمال تست در عین و عیان من
با من بہ سخن آئی دانم بہ زبان من
اے وہ کہ جن کا جمال میری آنکھوں کے سامنے ہے،
تم جب مجھ سے بات کرتے ہو تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میری ہی زبان سے کر رہے ہو۔
در ظاہر و در باطن در جملہ جمال تست
جز تو دگرے نبود پیدا و نہان من
ظاہر ہو یا باطن، ہر جگہ تمہارا ہی جمال نظر آتا ہے،
دونوں جہانوں میں تمہارے سوا کوئی دوسرا نہیں۔
اے جان جہان من مقصود مرا ایں است
پیوستہ بمن باشی بے نام و نشان من
اے جانِ جہاں! میرا مقصد تو بس یہی ہے
کہ تم مجھ جیسے بے نام و نشاں کے ساتھ ہمیشہ رہو۔
من ابن یمیںؔ نالم چوں بلبل در بستاں
از شوق گل رویت ایں آہ و فغان من
میں ابنِ یمین باغ میں بلبل کی طرح رو رہا ہوں،
میرا یہ رونا تمہارے چہرے کے پھول کے شوق میں ہے۔
- کتاب : نغمات سماع (Pg. 305)
- مطبع : نورالحسن مودودی صابری (1935)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.