Font by Mehr Nastaliq Web

اے درت حاجت روائے ما ہمہ

نصر پھلواروی

اے درت حاجت روائے ما ہمہ

نصر پھلواروی

MORE BYنصر پھلواروی

    اے درت حاجت روائے ما ہمہ

    ذات تو رحمت برائے ما ہمہ

    اے وہ ذات کہ آپ کے در سے ہم سب کی حاجت روائی ہوتی ہے۔ آپ کی ذات ہم سب کے لئے رحمت ہے۔

    ما ہمہ را چوں نہ باشد عشق تو

    عاشق رویت خدائے ما ہمہ

    ہم کو آپ سے عشق کیسے نہ ہو۔ آپ کا عاشق تو ہمارا خدا بھی ہے (یعنی اللہ بھی آپ سے بے حد محبت کرتا ہے۔ یہاں اللہ کاعاشق ہونا محبت وکرم کرنےکے معنی میں ہے)۔

    تاکہ رنجوران ہجرانیم ہست

    کوئے تو دارالشفائے ما ہمہ

    کب تک ہم آپ کے ہجر میں بیمار ہیں، آپ کی گلی ہمارے لئے دارالشفا ہے۔

    صد چو نصرؔ میکش و از آں غم مخور

    یک نگہت خوں بہائے ما ہمہ

    نصر کے جیسے سینکڑوں کو آپ قتل کر ڈالیں، یعنی اس جیسے آپ کے عشق میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں (یہاں قتل کی آپ کی طرف نسبت بحیثیت معشوق ہے) آپ غم نہ کریں (یعنی آپ فکر نہ کریں کہ آپ کے عشق میں اتنے لوگ ہلاک ہوگئے ) آپ کی ایک نگاہ، ہم سب لوگوں کے خون کی قیمت ہے۔

    مأخذ :
    • کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 288)
    • Author :شاہ ہلال احمد قادری
    • مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے