صورت نہ پرستم من بت خانہ شکستم من
صورت نہ پرستم من بت خانہ شکستم من
آں سیلِ سبک سیرم ہر بند گسستم من
میں صورت کا پجاری نہیں ہوں میں نے تو مندر توڑ ڈالے، میں تو وہ تند سیلاب ہوں جو تمام بند توڑ دیتا ہے۔
در بود و بنودِ من اندیشہ گماں ہا داشت
از عشق ہویدا شد ایں نکتہ کہ ہستم من
میرے وجود کے ہونے اور نہ ہونے میں عقل مختلف گمان میں تھی، یہ راز تو عشق سے ظاہر ہوا کہ میں موجود ہوں۔
در دیر نیازِ من، در کعبہ نماز من
زنار بدوشم من، تسبیح بدستم من
میں ہی مندر کا پجاری اور کعبہ کا پجاری ہوں، میرے ہی دوش پر زنار اور میرے ہی ہاتھ میں تسبیح ہے۔
سرمایۂ دردِ تو غارت نتوان کردن
اشکی کہ زِ دل خیزد، در دیدہ شکستم من
تمھارے درد کا سرمایہ برباد نہیں کیا جا سکتا، دل سے جو آنسو نکلتا ہے اس کو میں اپنی آنکھوں میں رکھ لیتا ہوں۔
فرزانہ بہ گفتارم، دیوانہ بہ کردارم
از بادۂ شوقِ تو ہشیارم و مستم من
گفتار میں میں دانہ ہوں، لیکن اپنی ذات میں دیوانہ ہوں اور تمھاری الفت کے شوق میں ذہین بھی ہوں اور مست بھی۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.