Font by Mehr Nastaliq Web

صورت نہ پرستم من بت خانہ شکستم من

علامہ اقبال

صورت نہ پرستم من بت خانہ شکستم من

علامہ اقبال

MORE BYعلامہ اقبال

    صورت نہ پرستم من بت خانہ شکستم من

    آں سیلِ سبک سیرم ہر بند گسستم من

    میں صورت کا پجاری نہیں ہوں میں نے تو مندر توڑ ڈالے، میں تو وہ تند سیلاب ہوں جو تمام بند توڑ دیتا ہے۔

    در بود و بنودِ من اندیشہ گماں ہا داشت

    از عشق ہویدا شد ایں نکتہ کہ ہستم من

    میرے وجود کے ہونے اور نہ ہونے میں عقل مختلف گمان میں تھی، یہ راز تو عشق سے ظاہر ہوا کہ میں موجود ہوں۔

    در دیر نیازِ من، در کعبہ نماز من

    زنار بدوشم من، تسبیح بدستم من

    میں ہی مندر کا پجاری اور کعبہ کا پجاری ہوں، میرے ہی دوش پر زنار اور میرے ہی ہاتھ میں تسبیح ہے۔

    سرمایۂ دردِ تو غارت نتوان کردن

    اشکی کہ زِ دل خیزد، در دیدہ شکستم من

    تمھارے درد کا سرمایہ برباد نہیں کیا جا سکتا، دل سے جو آنسو نکلتا ہے اس کو میں اپنی آنکھوں میں رکھ لیتا ہوں۔

    فرزانہ بہ گفتارم، دیوانہ بہ کردارم

    از بادۂ شوقِ تو ہشیارم و مستم من

    گفتار میں میں دانہ ہوں، لیکن اپنی ذات میں دیوانہ ہوں اور تمھاری الفت کے شوق میں ذہین بھی ہوں اور مست بھی۔

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نصرت فتح علی خان

    نصرت فتح علی خان

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے