Font by Mehr Nastaliq Web

از دست تو دل کباب تاکے

امیر خسرو

از دست تو دل کباب تاکے

امیر خسرو

MORE BYامیر خسرو

    از دست تو دل کباب تاکے

    جاں در طلبت خراب تاکے

    تیری جدائی اور بے رخی سے میرا دل آخر کب تک جلتا رہے گا؟

    تیری طلب میں میری جان کب تک برباد ہوتی رہے گی؟

    در بحر غمت ہلاک گشتم

    ایں زندگی حباب تاکے

    میں تیرے غم کے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو چکا ہوں،

    یہ بلبلے جیسی ناپائیدار زندگی آخر کب تک رہے گی؟

    از خون جگر رقم نمودم

    پیغام مرا جواب تاکے

    میں نے اپنے جگر کے خون سے پیغام لکھا ہے،

    بتا، میرے اس پیغام کا جواب کب آئے گا؟

    در مصحف روئے او نظر کن

    خسروؔ غزل و کتاب تاکے

    ذرا اس کے چہرے کی کتاب پر نظر ڈال،

    اے خسروؔ! غزل اور کتاب میں الجھے رہنا آخر کب تک؟

    مأخذ :
    • کتاب : Naghma-e-Sheeri'n (Pg. 24)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے