از پنجۂ من چاک گریباں گلہ دارد
وز گریۂ من گوشۂ داماں گلہ دارد
میرے پنجوں سے چاک گریباں لوگوں کو شکایت ہے
میری آہ و زاری سے دامن کے گوشے کو شکایت ہے
گہہ بت شکنم گاہ بہ مسجد زنم آتش
از مذہب من گبر و مسلماں گلہ دارد
کبھی میں بُت شکن بن جاتا ہوں، کبھی مسجد میں آتش زنی کرتا ہوں، میرے مذہب سے مسلمان کو بھی اور آتش پرست کو بھی شکایت ہے
دامان نگہ تنگ و گل حسن تو بسیار
گلچین بہار تو ز داماں گلہ دارد
میری نگاہ کا دامن تنگ ہے اور تمہارے حسن کے پھول بہت زیادہ ہیں،
تمہاری بہار کے گل چیں کو میرے دامن سے شکایت ہے
در بزم وصال تو بہ ہنگام تماشا
نظارہ ز جنبیدن مژگاں گلہ دارد
تمہارے وصال کی بزم میں دیدار کے وقت،
نگاہ کو تمہاری پلکوں کی جنبش سے شکایت ہے۔
گہہ گریہ و گہہ خندہ و گہہ آہ جگر سوز
اے عشرتیؔ از وضع تو جاناں گلہ دارد
کبھی آہ و زاری، کبھی ہنسی، کبھی جگر جلا دینے والی آہ،
اے عشرتیؔ! تمہاری اس کیفیت سے تمہارے محبوب کو شکایت ہے۔
- کتاب : نغمات سماع (Pg. 113)
- مطبع : نورالحسن مودودی صابری (1935)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.