Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

بمشہد گر سرم سودے چہ بودے

حاجی وارث علی

بمشہد گر سرم سودے چہ بودے

حاجی وارث علی

بمشہد گر سرم سودے چہ بودے

درش مسجود من بودے چہ بودے

مشہد میں اگر میرا سر گھستا تو کیا ہی اچھا ہوتا

اگر اس در کا دروازہ میرا مسجود ہوتا تو کیا ہی اچھا ہوتا۔

حباب آسا تنم در سیل اشکم

رہ آں روضہ پیمودے چہ بودے

حباب کی طرح میرا جسم میرے آنسوؤں کے سیلاب میں

مشہد کے روضہ کا راستہ طے کرتا تو کیا ہی اچھا ہوتا۔

غبارم را اگر باد سحر گاہ

بکوئے شاہ بر بودے چہ بودے

اگر صبح کے وقت کی ہوا میرے غبار کو

شاہ کی گلی میں لے جاتی تو کیا ہی اچھا ہوتا۔

مرا اے کاش سلطان دو عالم

سگ درگاہ فرمودے چہ بودے

کاش دونوں جہانوں کا بادشاہ مجھ کو

اپنی بارگاہ کا کتا کہہ دیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا۔

تہ نعل سمندر شوخ آں شاہ

سراپایم چو فرسودے چہ بودے

اس شاہ کے شوخ گھوڑے کی نعل کا تلوا اگر میرے جسم کو

گھسا دیتا تو کیا ہی اچھا ہوتا۔

اگر تیر مژہ را آں کماندار

بکیس چشم اندودے چہ بودے

اگر وہ تیر انداز اپنی پلک کے تیر کو میری آنکھ کے تھیلے میں

رکھتا تو کیا ہی اچھا ہوتا۔

خداوندا بمینائے دل من

مئے عشقش گر آمودے چہ بودے

یا اللہ میرے دل کی صراحی میں اس کے عشق کی شراب

اگر آجاتی تو کیا ہی اچھا ہوتا۔

اگر مانند شانہ پنجۂ من

گرہ زاں زلف بکشودے چہ بودے

اگر میرا پنجہ کنگھی کی طرح اس کی زلف کی گرہ کو کھولتا

تو کیا ہی اچھا ہوتا۔

شب و روز ست چوں دولاب در چرخ

دمے وارثؔ گر آسودے چہ بودے

رات دن جیسے کنویں کی چر کھڑی گھومتی رہتی ہے

اسی طرح وارثؔ کا دم اگر آسودہ ہوجاتا تو کیا ہی اچھا ہوتا۔

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے