Font by Mehr Nastaliq Web

بملازمان سلطاں کہ رساند ایں دعا را

حافظ

بملازمان سلطاں کہ رساند ایں دعا را

حافظ

MORE BYحافظ

    بملازمان سلطاں کہ رساند ایں ایں را

    کہ بہ شکر پادشاہی ز نظر مراں گدا را

    بادشاہ کے ملازموں کو یہ التجا کون پہونچائے گا، کہ بادشاہی کے شکرانہ میں فقیر کو نظر سے نہ ہٹا۔

    چہ قیامتست جاناں کہ بہ عاشقاں نمودی

    رخ ہم چو ماہ تاباں دل ہم چو سنگ خارہ

    اے معشوق کیا قیامت ہے کہ تونے عاشقوں کے لئے نمود کر لیا ہے، روشن چاند جیسا چہرا اور سنگ خارا جیسا دل۔

    ز رقیب دیو سیرت بخدا ہمی پناہم

    مگر آں شہاب ثاقب مددے کند خدارا

    دیو طبیعت رقیب سے میں خدا کی پناہ چاہتا ہوں، شاید وہ روشن ستارا خدا کے لیے مدد کر دے۔

    دل عالمے بسوزی چو عذار بر فروزی

    تو ازیں چہ سود داری کہ نمی کنی مدارا

    جب تو رخسار روشن کرتا ہے ایک عالم کے دل کو جلا دیتا ہے، تجھے اس سے کیا فائدہ ہے کہ خاطر تواضع نہیں کرتا ہے۔

    مژۂ سیاہت ار کردہ بخون ما اشارت

    ز فریب او بیندیش و غلط مکن نگارا

    تیری سیاہ پلکوں نے اگر ہمارے قتل کا اشارہ کیا ہے، تو اس مکر کے بارے میں سوچ اور اے معشوق غلطی نہ کر۔

    ہمہ شب دریں امیدم کہ نسیم صبح گاہی

    بہ پیام آشنائی بنوازد ایں گدا را

    تمام رات اسی تمنا میں ہوں کہ نسیم سحری، دوست کو دوستی کے پیغام سے نواز دے۔

    دل درد مند عاشق کہ ز ہجر تست پر خوں

    چہ شود گرش رسانی بوصال خویش یارا

    درد مند عاشق کا دل جو تیرے فراق سے خون میں ہے، کیا ہو جائے گا اگر اے یار تو اس کو اپنے وصال تک پہونچا دے گا۔

    دل مستمند ما را بشکنج زلف بردی

    مشکن دل ضعیفم بنواز ایں گدا را

    ہمارے حاجتمند دل کو تو زلف کے شکنجے میں قید کرکے لے گیا، ہمارے کمزور دل کو نہ توڑ اس فقیر کو نواز دے۔

    ز فریب چشم مستت دل دردمند خوں شد

    نظرے بہ کن بحالش بت دل ربا خدارا

    تیری مست نگاہ کے فریب سے درد مند دل خون ہو گیا ہے، اے دلربا بت خدا کے لئے اس کے حال پر ایک نظر کر۔

    چو طبیب درد منداں لب لعل یار باشد

    دل درد مند عاشق ز کہ جوید ایں دوا را

    جبکہ درد مندوں کا طبیب معشوق کا لعل جیسا ہونٹ ہو، تو عاشق کا درد مند دل اس دوا کو کس کے پاس تلاش کرے۔

    خبرے ز حال عاشق بر یار باز گوید

    برسد مگر ز زلفش اثرے مشام ما را

    عاشق کی حالت کی خبر یار کے پاس جا کر کہہ دو، شاید اس کی زلف کا کوئی اثر ہمارے دماغ تک پہونچ جائے۔

    بہ خدا کہ جرعہ دہ تو بہ حافظ سحر خیز

    کہ دعائے صبح گاہی اثرے کند شما را

    خدا کے لئے صبح کو بیدار ہو نے والے حافظ کو تو ایک گھونٹ دے دے،

    اس لئے کہ صبح کے وقت کی دعا تمہارے لئے مفید ہوگی۔

    مأخذ :
    • کتاب : دیوان حافظ (Pg. 37)
    • Author :حافظ شیرازی
    • مطبع : پروگریسو بکس، لاہور
    • کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 129)
    • Author :شاہ ہلال احمد قادری
    • مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے