بہ روئے تو پنہاں نظر داشتم
بہ روئے تو پنہاں نظر داشتم
بلائے عجب زیر سر داشتم
میں تیرے چہرے پر چھپ کر نظر کرتا تھا
عجب بلا (میں) سر میں رکھتا تھا
تو با کام دل زندگانی بکن
من از جان خود دست برداشتم
تو دل کی مراد کے ساتھ زندگانی کر
میں اپنی جان سے دست بردار ہوچکا ہوں
سرشکے بہ صد درد و غم می چکد
نماند آں کہ من ہم جگر داشتم
سیکڑوں درد و غم کے ساتھ آنسو ٹپک رہے ہیں
(وہ وقت) نہیں رہا کہ جب مجھے بھی (برداشت کرنے کا) مقدور تھا
نہ بود ایں چنیں بے خودی پیش ازیں
ز احوال خود ہم خبر داشتم
اس سے پہلے (کبھی) اس طرح بے خودی نہیں تھی
میں اپنے حال کی بھی خبر رکھتا تھا
خراشندۂ جبہ چوں من نہ بود
دریں کار دست دگر داشتم
پیشانی کو نوچنے والا کوئی مجھ سا نہیں تھا
اس کام میں انتہائی مہارت رکھتا تھا
نہ کردش بہ دل ہیچ تاثیر آہ
نگاہے بہ آہ سحر داشتم
آہ (اس نے) اس کے دل پر کوئی اثر نہیں کیا
(میں)آہِ سحر سے امید رکھتا تھا
بہ ہر شاخ گل کردہ ام نالۂ
گہے میرؔ من بال و پر داشتم
ہر شاخِ گل پر نالہ کر چکا ہوں
کبھی میرؔ میں (بھی) بال و پر رکھتا تھا
- کتاب : دیوانِ میر فارسی (Pg. 310)
- Author : افضال احمد سید
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.