کیم من بے نصیبے بے نوائے
کیم من بے نصیبے بے نوائے
غریب آوارۂ مسکیں گدائے
میں کون ہوں؟ ایک بے نصیب، بے نوا، غریب آوارہ اور مسکین گدا۔
خدایا ہیچ گہ چشمے ندیدہ
چو من کس خود پسند وخود ستائے
اے خدا! کہیں کسی جگہ کسی آنکھ نے نہیں دیکھا ہوگا مجھ جیسا کوئی دوسرا خود پسند اور خودستانی کرنے والا۔
فتادہ در رہت چوں من نباشد
کسےعاجزترے بیدست و پائے
(اے اللہ!) تیری راہ میں پڑا ہوا میرے جیسا کوئی عاجز اور بے دست و پا نہیں ہوگا۔
نہ بامن کاروانے نے دلیلے
نہ گاہے ازحدی خوانے صدائے
نہ میرے ساتھ کوئی قافلہ ہے نہ راہنما اور نہ کبھی کسی حدی خواں (قافلہ میں گانے والے) کی صدا ہے۔
وجودم ننگ دین و عار مذہب
سزاوارملامت پر خطائے
میرا وجود ننگ دین اور مذہب کے لئے باعث شرم اور لائق ملامت اور پر خطا ہے۔
کشود عقدۂ دشوار من نیست
مگر ز الطاف تو مشکل کشائے
میری زندگی کی دشوار گرہوں کا کھلنا ممکن نہیں مگر تیری مہربانیاں مشل کشا ہیں۔
بہ چشمم در دوعالم کے نماید
بجز کویت مکانے دلکشائے
تیرے کوچے کے سوا میری نظر میں دونوں عالم کی کوئی بھی چیز دل کو لبھانے والی نہیں۔
ہزاراں بہتر از من عاشقانت
ولے چوں تو نباشد دلربائے
(اے اللہ!) تیرے عاشقوں میں ہزاروں مجھ سے بہتر ہیں مگر (میرے لئے) تیرے جیسا دلربا کوئی نہیں۔
چومن در بندگانت بے شمارند
ولے نہ بود مرا جز تو خدائے
اگرچہ تیرے بندے بے شمار ہیں،
لیکن میرے لیے تیرے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے۔
سگان کوئے تو اے کاش سازند
دلم را بہر خود مہماں سرائے
اے کاش تیری گلی کے کتے، میرے دل کو اپنے لئے مہمان سرا بنائیں۔
خدایا جرمہائے من عظیم اند
کہ دشوار است ازاں محو خطائے
خدایا! میرے جرمِ عظیم ہیں۔ اس کا محو ہونا دشوار ہے۔
بہ نعلین حبیب خود بخشائے
بہ بدرؔ خستہ و مسکیں گدائے
اپنے حبیب کے نعلین کے صدقے میں بدر خستہ و مسکین گدا کو بخش دے۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 319)
- Author :شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.