بتے سرکشے کافرے کج کلاہے
بتے سرکشے کافرے کج کلاہے
بہ رخ آفتابے بہ رخسار ماہے
یہ وہ باغی، کافر اور حسین بُت ہے، جس کا چہرہ سورج اور گال چاند ہیں۔
معطر کن مغز جان دو عالم
بہ عنبر فشانی زلف سیاہے
جو دونوں جہانوں کو معطر کر دینے والا ہے، اپنی سیاہ زلفوں سے عنبر چھڑکنے والا ہے۔
بہ ہر کام در راہ مہر و محبت
دو دیدہ بہ دنبال او داد خواہے
اس کا ہر کام محبت کی ایک مثال ہے، دونوں آنکھیں اُس کے انصاف کی تلاش میں رہتی ہیں۔
نہ در خاکساری چو من بے نوائے
نہ در ناز و تمکیں چو او پادشاہے
اُس کی انکساری کا بیان مجھ سے کیا ہو سکتا ہے، اُس کی عزت و وقار کے سامنے بادشاہ بھی حقیر ہیں۔
برم تحفۂ پیش او از کجا من
نہ در دیدہ اشکے نہ در سینہ آہے
اُسے پیش کرنے کے لیے میں نذرانہ کہاں سے لاؤں، نہ میری آنکھوں میں آنسو ہیں، نہ سینے میں آہیں۔
فگند از سر لطف آں ماہ خوباں
ظفرؔ بر من بے بضاعت نگاہے
اُس حسین چاند نے کرم فرمایا کہ مجھ جیسے حقیر اور تہیدست پر اپنی نگاہِ عنایت ڈالی۔
- کتاب : نغمات سماع (Pg. 426)
- مطبع : نور الحسن مودودی صابری (1935)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.