بوئے یار مہربانم آرزوست
بوئے یار مہربانم آرزوست
راحت روح و روانم آرزوست
مجھے میرے مہربان دوست کی خوشبو کی آرزو ہے، مجھے اپنی روح اور جان کے سکون کی طلب ہے۔
خرقہ و شملہ چہ کار آید مرا
درد دل سوز نہانم آرزوست
یہ خرقہ اور شملہ (ایک طرح کی شال) میرے کام کے نہیں ہیں کہ میرے دل کا درد ہی میری آرزو ہے۔
کردہ ام سینہ ہدف اے ترک مست
یک نظر اے جان جانم آرزوست
اے مسرور و مخمور ترک تم نے میرے سینہ کو نشانہ بنایا ہے،لیکن اے میرے عزیز محبوب میں تمہاری ایک نظر کا خواہاں ہوں۔
بے خودم کن زاں دو چشم مست ناز
یک نظر اے جان جانم آرزوست
ان دو نازنیں مست آنکھوں سے تو مجھے بےخود کر دے،اے جانِ جان مجھے بس تیری ایک نظر کی آرزو ہے۔
تا جمالش بینم از چشم یقیں
برتر از وہم و گمانم آرزوست
تاکہ میں اس کا جمال یقین کی آنکھ سے دیکھ سکوں مجھے وہ مقام درکار ہے جو وہم وگمان سے بالا تر ہو۔
احمداؔ چوں گشتہ ای در عشق پیر
قوت بخت جوانم آرزوست
ے احمد! اب تم عشق میں پختہ اور بزرگ ہو گئے ہو،
مجھے تو اپنی جوان قسمت کی قوت کی تمنا ہے۔
- کتاب : نغمات سماع (Pg. 67)
- مطبع : نور الحسن مودودی صابری (1935)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.