Font by Mehr Nastaliq Web

بوئے یار مہربانم آرزوست

احمد شاہجہان پوری

بوئے یار مہربانم آرزوست

احمد شاہجہان پوری

MORE BYاحمد شاہجہان پوری

    بوئے یار مہربانم آرزوست

    راحت روح و روانم آرزوست

    مجھے میرے مہربان دوست کی خوشبو کی آرزو ہے، مجھے اپنی روح اور جان کے سکون کی طلب ہے۔

    خرقہ و شملہ چہ کار آید مرا

    درد دل سوز نہانم آرزوست

    یہ خرقہ اور شملہ (ایک طرح کی شال) میرے کام کے نہیں ہیں کہ میرے دل کا درد ہی میری آرزو ہے۔

    کردہ ام سینہ ہدف اے ترک مست

    یک نظر اے جان جانم آرزوست

    اے مسرور و مخمور ترک تم نے میرے سینہ کو نشانہ بنایا ہے،لیکن اے میرے عزیز محبوب میں تمہاری ایک نظر کا خواہاں ہوں۔

    بے خودم کن زاں دو چشم مست ناز

    یک نظر اے جان جانم آرزوست

    ان دو نازنیں مست آنکھوں سے تو مجھے بےخود کر دے،اے جانِ جان مجھے بس تیری ایک نظر کی آرزو ہے۔

    تا جمالش بینم از چشم یقیں

    برتر از وہم و گمانم آرزوست

    تاکہ میں اس کا جمال یقین کی آنکھ سے دیکھ سکوں مجھے وہ مقام درکار ہے جو وہم وگمان سے بالا تر ہو۔

    احمداؔ چوں گشتہ ای در عشق پیر

    قوت بخت جوانم آرزوست

    ے احمد! اب تم عشق میں پختہ اور بزرگ ہو گئے ہو،

    مجھے تو اپنی جوان قسمت کی قوت کی تمنا ہے۔

    مأخذ :
    • کتاب : نغمات سماع (Pg. 67)
    • مطبع : نور الحسن مودودی صابری (1935)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے