اے دل غلام شاہ جہاں باش و شاہ باش
پیوستہ در حمایت لطف الہ باش
اے دل جہاں کے بادشاہ کا غلام بن اور بادشاہ بن، ہمیشہ خدا کی مہربانی کی حمایت میں رہ۔
از خارجی ہزار بیک جو نمی خرند
گو کوہ تا بکوہ منافق پناہ باش
ہزار خارجیوں کو ایک جو میں نہیں خریدتے ہیں، اگرچہ وہ پہاڑ سے لے کر پہاڑ تک منافقوں کی پناہ ہوں۔
چوں احمدم شفیع بود روز رستخیز
گو ایں تن بلاکش من پر گناہ باش
قیامت کے دن جبکہ احمد میرے سفارشی ہوں، تو کہہ دو کہ میرا یہ بلاکش جسم گناہوں سے پر ہو۔
آں را کہ دوستی علی نیست کافرست
گو زاہد زمانہ و گو شیخ راہ باش
جس کو علی کی دوستی میسر نہ ہو وہ کافر ہے، خواہ وہ دنیا بھر کا زاہد اور طریقت کا شیخ ہو۔
امروز زندہ ام بہ ولائے تو یا علی
فردا بہ روح پاک اماماں گواہ باش
اے علی آج میں تیری دوستی کو وجہ سے زندہ ہوں، کل کو اماموں کی پاک روحوں کے طفیل تو گواہ رہنا۔
قبر امام ہشتم سلطان دیں رضا
از جاں بہ بوس و بر در آں بارگاہ باش
دین کے بادشاہ آٹھویں امام رضا کی قبر کو، جان سے بوسہ دے اور اس بارگاہ کے دروازہ پر رہ۔
دستت نمی رسد کہ بچینی گلے ز شاخ
بارے بپائے گلبن ایشاں گیاہ باش
تیرا ہاتھ نہیں پہونچتا کہ تو کسی شاخ سے پھول چنے، ایک بار ان کی پھول کی شاخ کے نیچے گھاس بن جا۔
مرد خدا کہ زاہد تقویٰ طلب بود
خواہی سفید جامہ و خواہی سیاہ باش
وہ خدا کا مرد جو زاہد تقوے کا طالب ہو، خواہ سفید کپڑے پہنے یا سیاہ کپڑے پہنے۔
حافظؔ طریق بندگی شاہ پیشہ کن
واں گاہ در طریق چو مردان راہ باش
اے حافظ شاہ کی غلامی کو پیشہ بنا، پھر طریقت مین مردان راہ کی طرح بن۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 223)
- Author :شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
- کتاب : دیوان حافظ (Pg. 256)
- Author :حافظ شیرازی
- مطبع : پروگریسو بکس، لاہور
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.