Sufinama

دلا دست طلب بکشا بہ درگاہ شہنشاہے

شاہ نیاز احمد بریلوی

دلا دست طلب بکشا بہ درگاہ شہنشاہے

شاہ نیاز احمد بریلوی

MORE BYشاہ نیاز احمد بریلوی

    دلا دست طلب بکشا بہ درگاہ شہنشاہے

    نظام الدین و الملت علیہ رحمت اللٰہے

    اے دل! ایک شہنشاہ کی بارگاہ میں طلب کے ہاتھ پھیلا

    نظام الدین والملۃ، ان پر اللہ کی رحمت ہو

    امیر عالم آرائے ظہیر دین و دنیائے

    شہنشاہ علی جاہے نبی شانے حق آگاہے

    آپ دنیا کو آراستہ کرنے والے امیر ہیں، دین و دنیا کے پشت پناہ ہیں

    آپ بادشاہ، علی جیسی وجاہت، نبی جیسی شان والے ہیں، حق کو پہچاننے والے ہیں

    محیط فیض و ارشادے بہ علم فقر استادے

    سراپا حسن جاں بخشے ہمہ جان دل خواہے

    فیض و ارشاد پر محیط ہیں، فقر کے علم کے (مہر) استاد ہیں

    سر سے پیر تک زندگی بخشنے والا حسن ہیں، مکمل دلپسند محبوب ہیں

    در‌ دریائے تجریدے گل بستان تفریدے

    بہ شکل صورت انساں نمایاں ذات اللہے

    دریائے ترک و تجرید کا موتی ہیں، یگانگت کے چمن کا پھول ہیں

    انسان کی شکل و صورت میں اللہ تعالیٰ کی ذات کا ظہور ہیں

    شبستان جہاں شد ہمچو روئے روشنے روشن

    کہ طالع گشتہ از آفاق عالم ایں چنیں ماہے

    دنیا کا شبستاں منور دن کی طرح روشن ہوگیا

    کیوں کہ دنیا کے افق سے ایسا چاند طلوع ہوا

    گرفتہ صورت فانی بہ بزمش سیرت عالی

    زبان شمع شد رد مدح او مرغ سحر گاہے

    حال کی (خوبی) سیرت نے ان کی محفل میں قالین کی صورت اختیار کی ان کی تعریف میں شمع (محفل) کی زبان صبح کے پردے کی مانند ہوگئی

    بہ خاشاک وجودم زد نگاہ گرم او آتش

    بروں از آسماں شد شعلۂ مشتیٔ پرکاہے

    میرے وجود کے خاشاک میں ان کی نگاہ گرم نے آگ لگا دی

    ایک مٹھی تنکے کی یہ آگ آسمان سے بلند ہوگئی

    ز شوق عشق محبوب الٰہی آں چناں گشتم

    کہ تصویر مصور در کشد بر صورت آہے

    محبوب الٰہی کے عشق کے شوق سے میں اس طرح ہوگیا

    کہ میری تصویر، مصور نے ایک آہ کی شکل میں کھینچی

    چہ غم داری نیازؔ از رفتن تنہا ازیں عالم

    کہ سلطان‌ المشائخ یار جاں با تست ہمراہے

    اے نیازؔ اس دنیا سے تنہا جانے کا غم کیا کرتا ہے

    کہ سلطان المشائخ تیرے محبوب ہیں اور ساتھ ہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    عبدالحفیظ عارفی

    عبدالحفیظ عارفی

    مأخذ :
    • کتاب : دیوان نیاز بے نیاز (Pg. 106)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY