شور جنوں و چاک گریبانم آرزوست
شور جنوں و چاک گریبانم آرزوست
در عشق غوث اے ہمہ سامانم آرزوست
شور جنون اور چاک گریباں میری آرزو ہے، عشق غوث اعظم میں مجھے ان ہی ساز و سامان کی آرزو ہے۔
قصر بہشت و روضۂ رضواں مرا چہ سود
یک گوشہ از در شہ جیلانم آرزوست
قصر بہشت اور روضۂ رضواں سے مجھے کیا فائدہ؟ مجھے شاہ جیلاں کے آستانے کے ایک گوشے کی آرزو ہے (جنت کے محلات اور رضوان کے باغ سے مجھے آسودگی نہیں ملے گی بلکہ میری راحت و قیام کے لئے حضرت غوث اعظم کے آستانے کا ایک گوشہ کافی ہے)۔
روزے کہ آفتاب سرنیزۂ رسد
بہر پناہ و سایۂ دامانم آرزوست
جس دن آفتاب ایک نیزے کے برابر قریب آجائے گا، اس دن پناہ کے لیے مجھے ان کے سایہ دامن کی آرزو ہے۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 163)
- Author :شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.