روزے کہ عاصیان امم را ندا کنند
دلچسپ معلومات
1.از بہر پاس خاطر اولاد فاطمہ آنانکہ خاک را بہ نظر کیمیا کنند 2. آنانکہ حل عقدۂ مشکل کنند کاش آیا بود کہ گوشۂ چشمے بہ ما کنند (ان دونوں اشعار کا دوسرا مصرعہ حافظ کا ہے)۔
روزے کہ عاصیان امم را ندا کنند
آنہا نگاہ سوئے رسول خدا کنند
جس دن امت کے گناہگاروں کو پکارا جائے گا، تو سب کی نگاہ رسول خدا پر ہوگی، سب ان کے قدم پر اپنی جان فدا کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
گویند آں شہی تو کہ شاہاں برائے فخر
جاں را بخاک پائے سگانت فداکنند
لوگ کہیں گے کہ آپ تو وہ بادشاہ ہیں کہ سارے بادشاہ آپ کے کتوں کی خاک قدم پر اپنی جان فدا کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
ہاں وقت عاجزیست خدا را شفاعتے
اے آنکہ خاک ہائے تراتوتیا کنند
ہاں یہ بڑی عاجزی اور بے بسی کا وقت ہے، خدا کے واسطے شفاعت فرمائیے، آپ کی وہ حیثیت ہے کہ آپ کی خاک پا کو لوگ توتیا (آنکھوں کا سرمہ) بناتے ہیں۔
رحمے بحال خستہ دلاں کن کہ جرمہا
ترسم بہ پیش حضرات ایزد چہا کنند
خستہ دلوں پر رحم کیجئے، مجھے خوف ہے کہ میرے سارے گناہ خدائے پاک کے سامنے بہت زیادہ شرمندہ کریں گے۔
دارم بسے گناہ و نہ داریم طاعتے
باشد کہ لطفہائے تو کارم روا کنند
ہمارے گناہ بہت ہیں اور طاعت کچھ نہیں، اگر آپ کی مہربانیاں ہو جائیں تو میرے کام بن جائیں۔
ما دادخواہ آمدہ ایم عذر ما پذیر
اے سجدہ بردرت ہمہ شاہ و گدا کنند
ہم فریاد لے کر آئے ہیں، ہمارا عذر قبول فرمایئے، آپ کے در پر تو شاہ و گدا سب سجدہ ریز ہوتے ہیں (یعنی سب آپ کے نیازمند ہیں)۔
دستم بگیر و پیش خدا عذرما پذیر
اے آرزوئے خاک درت انبیا کنند
میری دستگیری کیجئے اور خدا کے یہاں میری معذرت قبول کرائیے، آپ کی خاک در کی تمنا تو انبیا بھی کرتے ہیں۔
از بہر پاس خاطر اولاد فاطمہ
آنانکہ خاک را بہ نظر کیمیا کنند
یا رسول اللہ اولادِ فاطمہ کی خاطر توجہ فرمائیے کیونکہ ہم ہی وہ لوگ ہیں جن کی نظر سے خاک بھی کیمیا ہو جاتی ہے۔
آنانکہ حل عقدۂ مشکل کنند کاش
آیا بود کہ گوشۂ چشمے بہ ما کنند
جو لوگ عقدۂ مشکل کو حل کرتے ہیں، کاش وہ (رسول اللہ) ہماری طرف بھی ایک نگاہ کرتے۔
باشد کہ از عنایت و الطاف فردؔ را
از دام شرم ساری و خجلت رہا کنند
اے کاش! آپ اپنے الطاف و عنایات سے فرد کو شرمندگی و ندامت سے چھٹکارا دلاتے۔
- کتاب : بہار کی فارسی شاعری کے فروغ میں شعرائے پھلواری کا حصہ (Pg. 57)
- Author : محمد رضوان اللہ
- مطبع : پاکیزہ آفست پریس، محمد پور، شاہ گنج، پٹنہ (2007)
- اشاعت : First
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 190)
- Author :شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.